.

’میری بیٹیاں اسکول پڑھتی ہیں‘۔ طالبان کے ترجمان پر عوام برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر تحریک طالبان کی پابندی کے باوجود ان کی بیٹیاں اسکول جاتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر افغان عوام میں سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سہیل شاہین نے معروف پریزینٹر پیئرز مورگن کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کیا کہ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سہیل شاہین نے کہا کہ"ہاں، بالکل۔" ہماری بچیاں اسکول پڑھتی ہیں۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے صارفین نے کلپ پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شاہین پر منافقت کا الزام لگایا۔

ایک ٹویٹر صارف نے کہا کہ "میری لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں اور ان میں سے صرف ایک کو فٹ بال کھیلنے کی اجازت ہے۔"

ناراض ردعمل

طالبان ترجمان کے بیان پر عوام میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "افغان لڑکیاں سرپراسکارف پہنتی ہیں، لیکن وہ چھٹی جماعت کے بعد تعلیم سے محروم ہیں۔ کھیل نہیں کھیل سکتیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ آخرمیں انہوں نے اسے "منافقت" قرار دیا۔ طالبان اپنے بچوں کو اسکول جانے کی اجازت دیتے ہیں اور دوسروں کی تعلیم پر پابندی لگاتے ہیں۔ "

یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کے پچھلے وعدوں کے باوجود کہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکیں گی۔ افغانستان میں سکولوں نے ابھی تک لڑکیوں کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں