.

سعودی عرب : دہشت گردی میں ملوّث تین مجرموں کے سرقلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ہفتے کے روز دہشت گردی میں ملوّث تین مجرموں کے سرقلم کردیے گئے ہیں۔ان میں دو سعودی اورایک یمنی شہری ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی شہری محمد بن الخدر بن ہاشم العوامی کو’’دہشت گردی سیل‘‘ میں شمولیت اختیارکرنے، سکیورٹی میں خلل ڈالنے، افراتفری پھیلانے، سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

عوامی نے مبیّنہ طور پر اپنے گھر میں ہتھیار اور دھماکا خیز مواد بھی ذخیرہ کیا تھا۔اس کے گھر سے دھماکا خیز مواد بنانے کے لیے آر پی جی، مولوٹوف کاکٹیل اور آلات برآمد ہوئے تھے۔

ایک اور سعودی شہری حسین بن علی آل ابوعبداللہ کودہشت گردوں کے ساتھ کام کرنے،سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو گولی مار کرہلاک کرنے،مملکت میں سکیورٹی میں خلل ڈالنے کے لیے ہتھیار اورگولہ بارود حاصل کرنے اوردہشت گردی کی کارروائیوں میں مالی معاونت کے الزامات میں قصور وار پایا گیا تھا۔

یمنی شہری محمد عبدالباسط المعلمی کو یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا میں شامل ہونے اور دہشت گردانہ کارروائی کے لیے غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ نے کہا کہ معلمی کوحوثیوں کے لیے جاسوسی کرنے اور حوثی ملیشیا کے ساتھ مملکت میں فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کی تصاویر بانٹنے کا بھی مجرم پایا گیا تھا۔وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کی جاسوسی کے نتیجے میں سعودی عرب میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاتھا۔

وزارت کے مطابق ایک فوجداری عدالت نے تینوں افراد کوان کے خلاف درج مقدمات کی سماعت کے بعد سزائے موت سنائی تھی اور اپیل کورٹ اور سپریم کورٹ نے اس کے فیصلے کی منظوری تھی۔اس کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا تھا۔تینوں افراد کو ہفتے کے روز تہ تیغ کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں