.

ترکی اور شام کے درمیان سرحد پار سے حملے باعث تشویش ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شام اور ترکی کے درمیان سرحد پار سے حملے باعث تشویش ہیں۔

دوسری طرف شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری کا کہنا ہے کہ ترکی نے شمال مشرقی شام حلب شہر میں حکومتی فورسز کے ٹھکانوں اور منبج ملٹری کونسل سے تعلق رکھنے والے مقامات پرشیلنگ کی۔ ان علاقوں میں کرد ڈیموکریٹک فورسز’قسد‘ کے ٹھکانے واقع ہیں۔ دوسری طرف امریکا نے شام اور ترکی کے درمیان سرحد پار سے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

واشنگٹن نے ہفتے کے روز دمشق میں امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی اور شام کے درمیان سرحد پار سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید تشویش ہے۔

حلب کے شمال مشرق میں واقع "فرات شیلڈ" کے علاقے میں التوخار اڈے پر تعینات ترک افواج نے حکومتی فورسز اور منبج ملٹری کونسل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آبزرویٹری کی معلومات کے مطابق ترکی کی گولہ باری سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جاسکا۔

انسانی حقوق گروپ نے مزید کہا کہ 13 سے زیادہ توپ خانے اور راکٹ گولے حلب کے شمال مشرق میں منبج کے دیہی علاقوں میں عون الدادات اور عرب حسن کے دیہات پر گرے۔

یہ پیش رفت شامی حکومت کی افواج کے 10 فوجیوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔ جُمعہ کو ملک کے شمال میں لڑنے والے دھڑوں کی طرف سے ایک بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ دو سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں