سعودی عرب کا مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 15.3 ارب ڈالر کا فاضل بجٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب نے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں 57.49 ارب ریال (15.33 ارب ڈالر) کے فاضل بجٹ کی اطلاع دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 58 فی صد اضافے سے سعودی معیشت کو تقویت ملی ہے۔

سعودی وزارت خزانہ نے 2022 کی پہلی سہ ماہی میں گذشتہ چھے سال میں پہلی مرتبہ فاضل بجٹ کی اطلاع دی ہے۔وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ 2022 کے بجٹ کے کل تخمینہ 90.09 ارب ریال کے 63.82 فی صد کے مساوی ہے۔

وزارت خزانہ نے اتوار کو یہ اعدادوشمار سعودی آرامکو کی جانب سے پہلی سہ ماہی کے خالص منافع میں قریباً 82 فی صد اضافے کی اطلاع کے چند گھنٹے کے بعد جاری کیے ہیں۔

ان اعداد وشمار سے پتاچلتا ہے کہ دنیا میں خام تیل کی سب سے بڑی برآمد کنندہ کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں اپنی آمدنی 183.7 ارب ریال ظاہرکی ہےجو 2021 کے اسی عرصے میں 116.6 ارب ریال تھی۔

برینٹ کروڈکی قیمتوں میں مارچ 2021 کے آخر سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک قریباً 70 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ 107.91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ یوکرین پرروس کے حملے نے پیٹرولیم کی ترسیل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا تھا۔

تیل کی آمدنی میں اضافے کے باوجود سعودی عرب کے سرکاری اخراجات معمولی رہے ہیں۔ان میں ایک سال قبل کے مقابلے میں 4 فی صد اضافہ ہوا اور یہ پہلی سہ ماہی میں 220.47 ارب ریال ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

وزارت نے انکشاف کیا ہے کہ تیل کی مجموعی آمدنی 183.7 ارب سعودی ریال رہی ہے جوگذشتہ سال کی اسی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 58 فی صد زیادہ ہے۔تیل کی آمدنی کل آمدن کا 66.09 فی صد ہے جبکہ غیرتیل کی آمدنی قریباً33.91 فی صد ہے۔

پہلی سہ ماہی میں مملکت کی مجموعی آمدن 277.9 ارب ریال رہی جو سالانہ 36 فی صد زیادہ ہے اور سہ ماہی میں غیرتیل ذرائع کی آمدن 7 فی صد اضافے کے ساتھ 94.26 ارب ریال رہی ہے۔

وزارت نے سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ، سرکاری ذخائر یا اندرونی یا بیرونی فنانسنگ سے کوئی فنانسنگ یا قرض نہیں لیا۔میونسپل سروسزسیکٹر میں بجٹ اخراجات قریباً 7.6 ارب سعودی ریال کے برابر تھے جو 49.59 ارب کے منظورشدہ بجٹ کے 15 فی صد کے مساوی تھے جبکہ بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات ، سہولیات اور نقل وحمل کے شعبے کے اخراجات قریباً 9.06 ارب ریال تھے جو اس کے منظورشدہ بجٹ کے 22 فی صد کے مساوی ہیں اوراس کا کل بجٹ 42.04 ارب ریال ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صحت اور سماجی ترقی کے شعبے میں اخراجات 37.73 ارب ریال کے برابر ہوئے ہیں جورواں سال کے لیے اس کے منظورشدہ 138.24 ریال کے بجٹ کے 27 فی صد کے مساوی ہیں۔

ابوظبی کمرشل بینک کی چیف اکانومسٹ مونیکا ملک نے مملکت کے خودمختار دولت فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی آمدنی میں نمایاں اضافے کے باوجود سعودی اخراجات سال بہ سال کی بنیاد پر محتاط رہتے ہیں لیکن ہمیں پی آئی ایف کے ذریعے معیشت کو زیادہ مدد کی توقع ہے۔مملکت نے تیزی سے پی آئی ایف پر انحصارکیا ہے جس کے اثاثے 600 ارب ڈالر سے متجاوز ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں