سویڈن اورفن لینڈ کی نیٹو میں مجوزہ شمولیت؛ترکی نے مطالبات کا خاکاپیش کردیا

دونوں ممالک کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند اور واضح حفاظتی ضمانتیں فراہم کرنی چاہییں: ترک وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی نے فن لینڈ اور سویڈن کی معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رُکنیت کے حصول کے لیے مجوزہ کوششوں کے ردعمل میں اپنے مطالبات کا خاکا پیش کردیا ہے۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے اتوارکے روز کہا ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کو اپنے یہاں دہشت گردگروہوں کی حمایت بند کرنی چاہیے، واضح حفاظتی ضمانتیں فراہم کرنی چاہییں اور نیٹو کی رُکنیت حاصل کرنے کے دوران میں ترکی پردفاعی سازوسامان کی برآمد پر عاید پابندیاں ختم کرنی چاہییں۔

مولودشاوش اوغلو نے جرمن دارالحکومت برلن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے سویڈش اورفن لینڈ کے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے اوروہ ترکی کے خدشات کو دور کرنے کے خواہاں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترکی کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے اور نہ ہی فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے بلکہ عسکریت پسند گروپ کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے)کے لیے سویڈن کی حمایت کے بارے میں بات کررہا ہے۔ترکی، یورپی یونین اورامریکا نے اس کردجنگجو گروپ کو دہشت گرد گروہ قرار دے رکھا ہے۔

دریں اثناء فن لینڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ نیٹوکی رُکنیت کے لیے درخواست دے گا اور توقع ہے کہ سویڈن بھی روس کے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں اسی طرح کی درخواست دے گا۔ تاہم ترکی کے خدشات ان کی رُکنیت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں کیونکہ نیٹو میں توسیع سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تنظم کے تمام 30 رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہے۔

شاوش اوغلو نے ترک صحافیوں کو بتایا کہ ان دونوں ممالک کو دہشت گردتنظیموں کی حمایت بند کرنے کی ضرورت ہے۔نیزسلامتی کی ضمانتیں مہیّا کرنے ضرورت ہے اور سویڈن اور فن لینڈ کوترکی کو اپنا بعض دفاعی سازوسامان برآمد کرنے پرپابندی ختم کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارامؤقف بالکل کھلا اور واضح ہے۔یہ کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ کوئی ایسی بات چیت نہیں کہ جہاں ہم اپنے مفادات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ کوئی مقبول عام نعرہ یا مؤقف بھی نہیں ہے۔یہ واضح طور پردہشت گردی کے لیے دوممالک کی حمایت اوران کے بارے میں ہمارا ٹھوس مشاہدات پرمبنی مؤقف ہے۔اسی مؤقف کوہم نے دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

ترک صدرطیب ایردوآن نے جمعہ کے روز نیٹواتحادیوں اورنارڈک ممالک کو یہ کَہ کرحیران کردیا تھا کہ ’’مذکورہ دونوں ممالک بہت سی دہشت گرد تنظیموں کےگھر ہیں اور اس وجہ سے ترکی نیٹو تنظیم میں توسیع کے منصوبوں کی حمایت نہیں کر سکتا‘‘۔ لیکن ان کے ترجمان نے ہفتے کے روزرائٹرزکو بتایا کہ ترکی نے دروازہ بند نہیں کیا ہے۔

مولودشاوش اوغلو نے بھی اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ 70 سال قبل نیٹو میں شامل ہونے والا ترکی تنظیم کی کھلے پن کی پالیسی کی مخالفت نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ سویڈن اورفن لینڈ کے ہم منصبوں کے ساتھ ان کی بات چیت مفید رہی ہے اور انھوں نے انقرہ کے جائزخدشات کودورکرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کی ہیں جن پرترکی غور کرے گا۔انھوں نے دونوں وزرائے خارجہ کو ان کی ریاستوں میں مقیم (ترک کرد) دہشت گردوں سے متعلق ثبوت فراہم کیے ہیں۔

انھوں نے ایک بارپھرسویڈن کا نام لیا اور کہا کہ وہ ترکی کے مؤقف کی بے توقیری کررہا ہے۔انھوں نے بتایاکہ اختتام ہفتہ پر سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پی کے کے کے دہشت گردوں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں