روس اور یوکرین

یوکرین روس کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے:نیٹو سربراہ

فوجی اتحاد یوکرین کوفوجی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹوکے سربراہ جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یوکرین روس کی جارحیت کو شکست دے سکتا ہے اور یہ جنگ جیت سکتا ہے۔انھوں نے فوجی اتحاد پر زور دیا ہے کہ وہ کیف کو فوجی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

سٹولٹن برگ نےاتوارکوجرمن دارالحکومت برلن میں منعقدہ نیٹو کے جلاس میں کہاکہ’’یوکرین کے باشندے بہادری سے اپنے وطن کا دفاع کررہے ہیں، ہمیں یوکرین کی حمایت میں اپنے قدم بڑھانا چاہییں اوراس کی امداد کو برقراررکھنا چاہیے‘‘۔انھوں نے کہا کہ یوکرین میں روس کی جنگ اس طرح نہیں چل رہی جیسا کہ ماسکو نے منصوبہ بنایا تھا۔

نیٹوکے سربراہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں کو بتایا کہ روسی فوجی کیف پر قبضے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ یوکرین کے ایک اورشہرخارکیف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور ڈونبس میں ان کی بڑی جارحیت رُک چکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اتحاد عبوری مدت کے لیے فن لینڈ اور سویڈن کو رکنیت دینے اور ان کی الحاق کی درخواست کے دوران سکیورٹی ضمانتیں مہیّا کرنے پرغورکرے گا۔

نیٹوکے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’فن لینڈ اورسویڈن عبوری مدت کے بارے میں فکر مند ہیں... ہم اس (رُکنیت کے)عمل کو تیزکرنے کی کوشش کریں گے۔ہم خطے میں نیٹو کی موجودگی بڑھانے سمیت سلامتی کی یقین دہانیاں فراہم کرنے کے طریقوں پرغور کریں گے‘‘۔

اجلاس میں جرمن وزیرخارجہ انالینا بیربوک نے کہا کہ نیٹو ممالک یوکرین کوفوجی امداد مہیّا کرنے کے لیے تیارہیں تاکہ وہ روس کے حملے کو اس وقت تک روکنے میں مدد دے سکے جب تک اس کی ضرورت ہے۔

بیربوک نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں اورہمیں اپنی قومی کوششوں میں خاص طور پر فوجی حمایت کے حوالے سے اس وقت تک کمی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کریں گےجب تک یوکرین کواپنے ملک کے دفاع کے لیے اس حمایت کی ضرورت ہے۔

اسٹولٹن برگ نے سویڈن اور فن لینڈ کی متوقع رُکنیت کی کوششوں پرترکی کے خدشات کودورکرنے پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

انھوں نے نیٹو کے اجلاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے،ہم رُکنیت کے معاملات پر مشترکہ بنیاد اوراتفاق رائے تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس ضمن میں ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلوکے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اتحاد کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد نیٹو سربراہ نے بتایا کہ ترکی نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد ان دونوں ممالک کی رُکنیت کو روکنا نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ انقرہ کے اس الزام کے بعد کہ نارڈک ممالک’’دہشت گردوں‘‘کا گھرہیں، وہ کردعلاحدگی پسندوں کے حوالے سے بھی ترک وزیرخارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں