اسرائیلی سپریم کورٹ : بیت المقدس میں "کیبل کار" منصوبہ روکنے کی پٹیشن مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیت المقدس شہر اور القدیمہ ٹاؤن کی باڑوں کے اوپر "کیبل کار" کے منصوبے کے مخالفین اتوار کے روز اسرائیلی سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا مقدمہ ہار گئے۔

مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ قدیم شہر کے یادگار تاریخی مقامات کی شکل بدل دے گا۔ تاہم مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کے 3 رکنی بینچ نے کہا کہ عدالت نے 2019ء میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری کو منسوخ کرنے کے حوالے سے عدم مداخلت کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ منصوبے کی تیاری میں مطلوبہ تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے۔

مجوزہ کیبل کار کے ذریعے ایک گھنٹے کے اندر تقریبا 3 ہزار سیاحوں اور نمازیوں کو بیت المقدس کے مغربی حصے سے شہر کے مشرق میں واقع اولڈ سٹی میں باب المغاربہ تک پہنچایا جا سکے گا۔ اس سفر کا دورانیہ چار منٹ ہو گا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ علاقے کا تاریخی ورثہ مٹا دے گا۔ منصوبے کے رُوٹ پر بھی اعتراضات کیے گئے ہیں جس کے تحت کیبل کار کی بوگیاں مشرقی بیت المقدس میں گھروں کے اوپر چند میٹر کے فاصلے سے گزریں گی۔

ادھر اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ کیبل کار کا منصوبہ اولڈ ٹاؤن کے علاقے میں سیاحت کو ترقی دینے میں کردار ادا کرے گا۔ ساتھ ہی ٹریفک کے شدید ہجوم کو بھی کم کرے گا۔ یہ علاقہ یہودیوں ، مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے۔

منصوبے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے والے فریقوں میں ثقافتی حقوق اور ماحولیات کی اسرائیلی جماعتوں کے علاوہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے سلوان میں رہنے والے فلسطینی شامل تھے۔

اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم Peace Now سے تعلق رکھنے والی ہیگیٹ عفران نے سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری ہونے کے بعد اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "اس پاگل پن کے منصوبے کو روکنے کے لیے اب صرف عوامی مزاحمت کا راستہ رہ گیا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں