ایران:غیرملکی روابط اورسکیورٹی الزامات پریونیورسٹی پروفیسرگرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں حکام نے سکیورٹی سے متعلق الزامات اور ’’مشکوک غیرملکی روابط‘‘ کے شُبے میں یونیورسٹی کے ایک پروفیسرکو گرفتارکرلیا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے مہرنے زیرحراست پروفیسر کی شناخت سعید مدنی کے نام سے کی ہے اور سوموار کو ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے مزید تفصیل فراہم نہیں کی اور نہ یہ بتایا ہے کہ انھیں کب اورکہاں تحویل میں لیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتارپروفیسر نے مبیّنہ طور پرمشکوک غیر ملکی شہریوں سے ملاقات کی تھی اورایران میں مقامی کارکنوں کو ان کے پیغامات پہنچائے تھے۔

مہر نے بتایا کہ سعید مدنی تہران حکومت کے زیرانتظام علامہ یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسرہیں اور وہ بھی ایک سیاسی کارکن ہیں۔ ماضی میں انھیں عدالتوں نے کئی بار طلب کیا تھا اور2019 میں ایک باران پر بیرون ملک سفر پر پابندی عاید کی گئی تھی۔

ایرانی حکام نے حالیہ ہفتوں میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیزکر دیا ہے اور حکومت مخالف سیاسی کارکنان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپامار کارروائیاں کی جارہی ہیں۔اختتام ہفتہ پرایوارڈ یافتہ فلم ساز محمد رسولوف اور دیگر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام نے حال ہی میں متعدد فلم سازوں اور فلمی صنعت سے وابستہ دیگر پیشہ ور افراد کے دفاتر اور گھروں پر چھاپے مارے ہیں اور ان میں سے کچھ کو گرفتار کیا ہے۔

ایران کے قدامت پسند حکام ایران میں اقتدار کے تمام ذرائع اور منابع کو کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے بہت سی سرگرمیوں کو جمہوریہ کے خلاف مغرب کی ’’نرم جنگ‘‘ کا حصہ قراردیتے چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربیت ملک کے مذہبی عقائد کو داغ دار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے گذشتہ جمعہ کو خبر دی تھی کہ حکام نے سب سڈی (زرِتلافی)والی اہم غذاؤں کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے بائیس مظاہرین کو گرفتارکرلیا ہے اور ہفتہ کے روز جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے شہردیزفل سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ احمد عوئی نے بتایا کہ بدامنی کے دوران میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

یہ بدامنی گذشتہ ہفتے کے اوائل میں ایران کے اس اعلان کے بعد رونما ہوئی تھی کہ کھانا پکانے کے تیل، مرغی، انڈے اور دودھ کی لاگت میں 300 فی صد تک اضافہ ہوگا کیونکہ عالمی سپلائی چین میں تعطل اور روس کی جانب سے بڑے خوراک برآمد کنندہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے مشرقِ اوسط میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں