بائیڈن انتظامیہ کےاعلیٰ اختیاراتی وفد کی یواے ای آمد، ’سردمہرتعلقات‘ کی بحالی پرگفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدرجو بائیڈن نے پیر کے روز ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد متحدہ عرب امارات کے مرحوم صدر شیخ خلیفہ بن زاید کی وفات پر تعزیت کے لیے ابوظبی بھیجا ہے۔وفد کے دورے کا مقصد یواے ای کے ساتھ سردمہری کا شکار دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت بھی ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی واشنگٹن کی خواہش میں نئی تیزی آئی ہے اور اس نے تیل پیدا کرنے والے خلیجی عرب ممالک کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا ہے جبکہ یورپ روس پر توانائی کاانحصار کم کرنا چاہتا ہے۔

خلیجی ریاستوں نے اب تک یوکرین تنازع میں فریق بننے سے انکار کیا ہے۔تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے دوبڑے رکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں مدد کے لیے پیداوار میں اضافے کے مطالبے کی مزاحمت کی جس سے دنیا بھر میں افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔

اس اختتام ہفتہ اورسوموار کو کئی ایک عالمی رہنماؤں نے ابوظبی کا دورہ کیا ہے اور یو اے ای کے نئے صدرشیخ محمد بن زاید سے ان کے سوتیلے بھائی سابق صدرشیخ خلیفہ بن زاید کی وفات پرتعزیت کا اظہار کیا ہے اورانھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی تعزیت کے لیے پیر کو متحدہ عرب امارات پہنچنے والے تھے۔

امریکی نائب صدر کمالاہیرس دوسرے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ اماراتی دارالحکومت پہنچی ہیں۔ان کی قیادت میں آنے والے وفد میں صدر بائیڈن کے قومی سلامتی کے قریب قریب تمام اعلیٰ معاونین شامل ہیں۔ان میں وزیرخارجہ ،وزیر دفاع اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ سے لے کر وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وفد کی ہیئت ترکیبی واشنگٹن کی خطے کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کمالا ہیرس یواے ای کی قیادت سے بات چیت میں سلامتی اور آب و ہوا سے لے کر خلا، توانائی اور تجارت تک کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کریں گی۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگزانسٹی ٹیوشن کے پالیسی ماہر عمرتسپینرکا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کی بحالی ومرمت کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یہ ایک بڑی جارحانہ سفارت کاری ہے۔

واضح رہے کہ مشرق اوسط بائیڈن انتظامیہ کی ترجیح نہیں رہا تھا۔اس کی بنیادی توجہ چین سے درپیش چیلنج سے نمٹنے پر مرکوز تھی اور فروری سے امریکا کی خارجہ پالیسی کے ایجنڈے میں یوکرین تنازع کا غلبہ تھا۔

صدربائیڈن نے اب تک سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مملکت کے حقیقی حکمران کے طور پر براہ راست کسی معاملہ کاری سے انکار کیا ہے۔جنوری میں یمن سے ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے ابوظبی پر میزائل حملوں کے بعد امریکا کی مضبوط حمایت نہ ہونے کی وجہ سے اماراتی مایوس ہوگئے تھے۔

رائٹرز کی اطلاع کے مطابق صدر بائیڈن نے حملوں کے بعد فوری طور پراماراتی قیادت سے فون پر رابطہ نہیں کیا تھا اور حوثیوں کے ان حملوں کا کوئی زیادہ زور دار جواب نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے شیخ محمد پریشان ہوگئے تھے۔

تسپینر نے مزید کہا کہ حوثی حملوں کے بعد اعلیٰ سطح کے دوروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کو امریکا کے طرزعمل پرمایوسی ہوئی تھی اور اب دوطرفہ تعلقات اورمعاملات کو دوبارہ پٹڑی پرلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امارات کے نقطہ نظر اور سوچ وفکر سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی سینیارٹی اورحجم ایک واضح اشارہ ہے اور یہ شیخ محمد اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کے لیے بہت معنی خیز ہوگا۔

مارچ میں مراکش میں شیخ محمد کے ساتھ ایک ملاقات میں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے خطے کے ساتھ واشنگٹن کے عزم کی یقین دہانی کرائی تھی۔

خلیجی ریاستوں نے ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی گماشتہ تنظیموں کے نیٹ ورک کے پیش نظراپنی سلامتی کے حوالے سے امریکی عزم میں کمی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات امریکا کے ساتھ ساتھ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے تہران کے ساتھ بھی بات چیت کررہا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ بھی پیر کو ابوظبی میں پہنچنے والے تھے۔

ابوظبی اور الریاض بھی امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے حالات سے مایوس ہیں۔ دسمبر میں یواے ای نے کہا تھا کہ وہ فروخت سے متعلق شرائط کی وجہ سے امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری پر بات چیت معطل کر دے گا۔اس کاکہنا ہے کہ یواے ای چین اورروس کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنے کے باوجود امریکا کا ایک تزویراتی شراکت دار ہے اور وہ اس کے ساتھ قریبی اور زیادہ واضح تعلقات چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں