لبنان : پارلیمانی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان میں اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

لبنان کے وزیر داخلہ بسام المولوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 41% رہا۔ رائے شماری کے حتمی تناسب کا اعلان بعد میں کیا جا ئے گا۔ اس میں بیرون ملک لبنانیوں کے ووٹ بھی شامل ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ کے مطابق لبنان میں حزب اللہ کی اتحادی جماعت "فری پیٹریاٹک موومنٹ" نے 15 سے 16 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تاہم حزب اللہ کی حریف مسیحی جماعت لبنانی فورسز پارٹی نے کم از کم 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

لبنان کے صدر میشیل عون کی جانب سے تاسیس کردہ "فری پیٹریاٹک موومنٹ" نے 2018ء کے انتخابات کے بعد سب سے بڑا انفرادی بلاک تشکیل دیا تھا۔ تاہم 2019ء میں ملک میں مالیاتی بحران کے تناظر میں شدید تنقید کے بعد مذکورہ پارٹی کا بڑی حد تک نشستوں سے ہاتھ دھونا متوقع تھا۔

حزب اللہ کے حمایت یافتہ 65 سالہ درزی سیاسی رہ نما طلان ارسلان انتخابات میں اپنے حریف سے شکست کھا گئے ہیں۔ وہ 30 برس سے اس نشست پر کامیاب ہو رہے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ 1992ء میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا سب سے زیادہ تناسب (55.91%) جبل لبنان میں جب کہ سب سے کم تناسب (28.22%.) طرابلس شہر میں رہا۔

اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے حوالے سے یورپی مشن کے مبصرین بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق ووٹنگ میں لوگوں کی دل چسپی دیکھنے میں آئی۔

لبنانی فورسز پارٹی نے حزب اللہ پر طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سے قبل رپورٹیں موصول ہوئی تھیں کہ حزب اللہ کے عناصر نے لوگوں کو ووٹنگ سے قبل ڈرایا دھمکایا اور مندوبین کو دھاوؤں کا نشانہ بھی بنایا۔

لبنان میں پارلیمنٹ کے 128 ارکان کے انتخاب کے لیے اتوار کی صبح پولنگ کا آغاز ہوا۔ ملک میں سنگین ترین اقتصادی بحران کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں۔ لبنان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 39 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں آدھی سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق 7 بجے پولنگ کا عمل ختم ہو گیا۔

لبنان اس وقت اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ عالمی بینک نے اس بحران کو 1850ء کے بعد دنیا کا بدترین اقتصادی بحران قرار دیا ہے۔ لبنان میں 80% سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ مقامی کرنسی لیرہ ڈالر کے مقابل 90% سے زیادہ قدر کھو چکی ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 30% کے قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں