کیا مریخ پر خلائی مخلوق کی موجودگی کے ثبوت مل گئے ہیں؟

مریخ کی چٹانوں پر بنے دروازے نما شگاف کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے جاری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر موجود روبوٹ، کیوروسٹی روور کی جانب سے بھیجی جانے والی ایک تصویر اس وقت توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس میں ایک چٹان پر دروازہ بنا ہوا نظر آ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس دروازہ نما پتھر کے بارے میں دلچسپ تبصرے جاری ہیں۔ کئی لوگ اسے خلائی مخلوق کی مریخ پر موجودگی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ فوٹو گراف ناسا کے کیوروسٹی روور نے رواں ماہ سات مئی کو کھینچی تھی۔

لیکن کیا یہ اصل میں ایک دروازہ ہے اور الف لیلوی کہانی کی طرح 'کھل جا سم سم' کہنے سے مریخ پر بسے خلائی مخلوق تک رسائی دے سکتا ہے یا اس کے کھلنے سے دوسری کسی کائنات کا راستہ کھل جائے گا؟

زمین کا قریبی ہمسایہ مریخ جو حجم لے لحاظ سے زمین کے مقابلے میں آدھا ہے، سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہاں پانی ملنے کی صورت میں انسانی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

برطانوی ماہر ارضیات، جنہوں نے مریخ کی سطح کے حوالے سے تحقیق کی ہے، نے معروف ویب سائٹ ’لائیو سائنس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ پتھروں کا کٹاؤ ہے۔

ایک اور ماہرِ ارضیات نکولاس مینگولڈ نے بھی اسی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے لائیو سائنس کو بتایا کہ یہ کٹاؤ تین فٹ سے بھی کم ہے۔ ان کے بقول پتھروں کی یہ ہئیت قدرتی عمل سے نمودار ہوئی ہے۔

حقائق کی تفتیش کرنے والی ویب سائٹ ’سنوپ‘ سے بات کرتے ہوئے ناسا کے ترجمان نے اس دروازے کو پتھر میں شگاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سائنسی تحقیق کرنے والی ٹیم نے بتایا ہے کہ یہ شگاف 30 سینٹی میٹر چوڑا اور 45 سینٹی میٹر لمبا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس دروازہ نما شگاف کے حوالے سے ابھی بھی مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ریڈٹ پر ایک صارف سوال کیا کہ اس سے کیا ہوتا ہے کہ یہ محض چند انچ بڑا دروازہ ہے؟ ان کے بقول انہیں کیا پتا کہ نئے سردار کی جسامت کتنی بڑی ہے؟

ناسا کا کیوروسٹی روور رواں برس 18 فروری کو مریخ پر اترا تھا اور تب سے وہاں کے پتھروں اور معدنیات سے متعلق تفصیلات اور تصاویر زمین پر بھیج رہا ہے۔ یہ روبوٹ نما روور دو برس تک مریخ کی سطح پر تحقیق کرتا رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں