ایران نئے ٹھکانوں میں جدید سینٹری فیوجز تیار کر رہا ہے : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران زیر زمین نئے ٹھکانوں میں سینٹری فیوجز کو جدید بنانے پر کام کر رہا ہے ، یہ ٹھکانے نطنز کی جوہری تنصیب کے نزدیک تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

آج منگل کو دیے گئے بیان میں گینٹز کا کہنا تھا کہ "ایران اپنی جوہری تنصیبات میں اے آر 6 نوعیت کے 1000 جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور تنصیب کو مکمل کرنے کے لیے مصروف عمل ہے ... ان جدید تنصیبات کی تعمیر نطنز کے نزدیک زیر زمین ٹھکانوں میں عمل میں آ رہی ہے"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی لاگت ایک برس بعد کی لاگت سے کم ہو گی۔

تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوشش کرنے والے بڑے ممالک سینٹری فیوجز کے میدان میں ایران کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران اس بات کی ترید کرتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سے اس کے عسکری مقاصد ہیں۔

ایران نے رواں سال اپریل میں تصدیق کی تھی کہ اس نے سینٹری فیوجز تیار کرنے والی تنصیب کو نطنز میں اپنے زیر زمین جوہری ٹھکانے پر منتقل کر دیا ہے۔ یہ بات ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے بتائی تھی۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے 28 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ نطنز میں یورینیم کی افزودگی کے لیے مطلوبہ سینٹری فیوجز کے پرزہ جات تیار کرنے کے لیے ایران کا نیا ورکشاپ ،،، ایندھن افزودہ کرنے کے ایک زیر زمین اسٹیشن میں قائم کیا گیا۔

نطنز کو دو مرتبہ تخریبی کارروائیوں میں حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے ان کارروائیوں کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھہرایا۔

ویانا میں ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے تہران اور عالمی قوتوں کے بیچ بات چیت رکاوٹوں کا شکار ہو گئی۔ اندیشہ ہے کہ اگر ایران نے جوہری عسکری مقاصد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا تو وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے نزدیک پہنچ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں