یمن اور حوثی

ایران کے حمایت یافتہ حوثی امن کوششوں کوسبوتاژکر رہے ہیں:یمنی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا جنگ بندی کی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مکمل امن قائم کرنے کی کوششوں کونقصان پہنچارہی ہے۔

یہ بات یمنی وزیراطلاعات، ثقافت اور سیاحت معمر الاریانی نے ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا تعزگورنری پر قبضہ ختم کرنے سے گریز کرررہی ہے۔

یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے اس سے قبل کہا تھا کہ تعزکے متنازع علاقے میں سڑکیں کھولنے کے لیے علاحدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

عرب اتحاد اور یمن کے بیشترشمالی صوبوں پر قابض والی ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان 2 اپریل سے جنگ بندی جاری ہے۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس پرمکمل عمل درآمد کیا گیا ہے اورمتحارب فریقوں نے بڑی حد تک اس کی پاسداری کی ہے۔

معمرالاریانی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یمن میں بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ مخلوط حکومت حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں میں رہنے والوں سمیت لاکھوں افراد کے مصائب کو ختم کرنے کی خواہش مند ہے۔

وزیرموصوف نے حوثیوں پربین الاقوامی دباؤ ڈالنے اور جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمدکو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے اور کہا ہے کہ تعز پر حوثیوں کا کنٹرول ختم کیا جائے۔

انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کی قانونی حکومت مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور امن کے حصول کے لیے مسلسل رعایتیں دے رہی ہے۔

جنگ بندی کے حصے کے طور پر قریباً چھے سال کے دوران میں پہلی تجارتی پرواز پیر کو یمن کے دارالحکومت صنعاء سے روانہ ہوئی تھی۔اس شہر پرحوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے اور یہاں سے پروازوں کی محدود پیمانے پر بحالی کو امن عمل کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ صنعاء کا بین الاقوامی ہوائی اڈااگست 2016ء سے تجارتی پروازوں کے لیے بند ہے۔ عرب دنیا کا غریب ترین ملک یمن 2014 سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق یمن میں تشدد کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں جس سے جنگ زدہ ملک میں دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں