بھارت:عدالتِ عظمیٰ نے تاریخی مسجد میں نمازکے بڑے اجتماعات پرپابندی منسوخ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی عدالتِ عظمیٰ نے منگل کے روز شمالی ہندمیں واقع تاریخی گیان واپی مسجد میں مسلمانوں کے نمازوں کے بڑے اجتماعات پر پابندی کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کاحکم دیا ہے جبکہ ایک سروے ٹیم نے کہا ہے کہ اسے اس مسجد کی جگہ پرہندو دیوتا شیواور دیگرمذہبی علامات کے آثار ملے ہیں۔

اعلیٰ عدالت نے ایک عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ مسلمانوں کے نماز کے حق میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں ہندومذہبی آثار پائے جاتے ہیں،ان کی حفاظت کی جانا چاہیے۔

مسجد میں حقِ عبادت پراختلاف ہندو کارکنوں کی کئی دہائیوں سے جاری مہم کے بعد رونما ہوا تھاجس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعمیرکردہ اہم عمارتیں پرانے مقدس مقامات کے اوپرتعمیر کی گئی ہیں۔ اس سے تیس سال پہلے تاریخی بابری مسجد پر ہندو مسلم تنازع مہلک فسادات کا باعث بنا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم وارانسی (بنارس) کی ایک مقامی عدالت کے تاریخی گیان واپی مسجد سے متعلق فیصلہ کے ایک دن بعد جاری کیا ہے۔مقامی عدالت نے مسجد میں مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ سنایا تھا اور کہا تھا کہ وہاں نمازکے اجتماعات کو صرف 20 افراد تک محدود ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ وارانسی ہندومت کا مقدس ترین شہر سمجھاجاتا ہے۔

مقامی عدالت نے اس تاریخی مسجد کے سروے کا حکم اس وقت دیا تھا جب پانچ خواتین نے اس کے ایک حصے میں ہندو رسومات ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی اور کہا تھا کہ ایک بار اس جگہ پرایک ہندو مندرموجود تھا۔ گیان واپی مسجد وارانسی، اتر پردیش، بھارت میں واقع ہے۔مشہور ہے کہ اس مسجد کو مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے سترھویں صدی میں تعمیرکرایا تھا۔

وزیراعظم نریندرمودی کے حلقے میں واقع گیانوپی مسجد شمالی اترپردیش کی متعدد مساجد میں سے ایک ہے جن کے بارے میں کچھ ہندوؤں کا خیال ہے کہ انھیں مسمارشدہ ہندومندروں کی جگہوں پرتعمیرکیا گیا تھا۔

مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ سخت گیر ہندوگروہوں نے کچھ مساجد کے اندرکھدائی کرنے اور تاج محل کے مزار میں تلاشی کی اجازت دینے کے مطالبات تیز کر دیے ہیں۔اعلی عدالت کے جج اس ہفتے ہندو اور مسلم درخواست گزاروں سے سماعت جاری رکھیں گے۔

بھارت کے 20 کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کے رہنما مسجد کے اندر ہونے والے سروے کو بی جے پی حکومت کے ساتھ خاموش معاہدے کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ان کے آزادانہ عبادت اور مذہبی اظہار کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

بی جے پی مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے خلاف تعصب کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ترقی پسند تبدیلی چاہتی ہے جس سے تمام ہندوستانیوں کو فائدہ ہو۔

یادرہے کہ 2019ء میں سپریم کورٹ نے ہندوؤں کو ایودھیا میں واقع سولھویں صدی کی متنازع بابری مسجد کے مقام پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔اس مسجد کو 1992 میں ہندوبلوائیوں نے شہید کردیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان رام کی جنم بھومی کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔اس مسجد کی شہادت کے نتیجے میں بھارت بھر میں قریباً دو ہزارافراد ہلاک ہوئے تھے۔ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں