سعودی آرامکو کااپنے تجارتی یونٹ کے ابتدائی حصص کی فروخت پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو تیل کی قیمتوں میں تیزی کے بعد اپنے تجارتی بازو کی ابتدائی عوامی پیش کش پرغورکررہی ہے۔اس کے ابتدائی حصص کی مالیت اس سال دنیا میں کسی بھی کمپنی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

باخبرذرائع کے مطابق سعودی ریاست کے زیرانتظام تیل کی بڑی کمپنی گولڈمین سچز گروپ ، جے پی مورگن چیس اینڈ کمپنی اور مورگن اسٹینلے سمیت بینکوں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کررہی ہے اور وہ اپنے تجارتی بازو ’’آرامکو ٹریڈنگ کمپنی‘‘ کے اسٹاک مارکیٹ میں ممکنہ اندراج کا جائزہ لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق آرامکو کاٹریڈنگ یونٹ دسیوں ارب ڈالر کی مالیاتی قدرحاصل کرسکتا ہے۔ان میں سے دو کا کہنا ہے کہ اس کی مالیت ممکنہ طور پر 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

آرامکو حال ہی میں مالیاتی قدر کے اعتبار سے دنیا کی سب سے امیرکمپنی قرار پائی ہے۔وہ آرامکوٹریڈنگ کے30 فی صد حصص فروخت کرسکتی ہے۔اس طرح وہ اس سال دنیا میں سب سے بڑے ابتدائی حصص کی پیش کش (آئی پی اوز)کرنے والی کمپنی بن جائے گی۔ جنوبی کوریا کے ایل جی انرجی سالوشن نے جنوری میں قریباً 10.8 ارب ڈالر ابتدائی حصص کی فروخت سے جمع کیے تھے۔

تیل پیدا کرنے والے دیگر بڑے ممالک نے زیادہ تر اپنے تجارتی یونٹوں کو چھپا رکھا ہے اور منافع کےبڑے ذرائع کے راز افشا کرنے سے محتاط ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرامکو اب بھی ممکنہ اندراج کے فوائد اور خوبیوں پر بحث کر رہی ہے اور اس کے آگے بڑھنے کا کوئی یقین نہیں ہے۔

ابتدائی حصص کی تفصیل بشمول حجم اور وقت اب بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گولڈمین سچز، جے پی مورگن اور مورگن اسٹینلے کے نمائندوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکیا ہے جبکہ آرامکو اور آرامکو ٹریڈنگ کے ترجمانوں نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مشرق اوسط میں توانائی کمپنیاں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اثاثوں کی فہرست بنا رہی ہیں کیونکہ ان کی حکومتیں تیل پرانحصار کم کرنا چاہتی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرنا چاہتی ہیں۔ بلومبرگ نیوز نے گذشتہ ماہ خبردی تھی کہ آرامکو اپنی ریفائننگ کمپنی لوبیریف کے اندراج پرغور کر رہی ہے۔

فروری میں اس معاملے سے آگاہ لوگوں نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے آرامکو کے اسٹاک کی ایک تازہ پیش کش پر بھی ابتدائی بات چیت شروع کی ہے جو دو سال قبل اس کے تاریخی اندراج سے زیادہ رقم اکٹھا کر سکتی ہے۔

آرامکو کے دیگر ذیلی اداروں میں کیمیکلز بنانے والی کمپنی سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن (سابک) ور ربیغ ریفائننگ اینڈ پیٹرو کیمیکل کمپنی شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی نے بھی اسی طرز پرعمل کیا ہے۔اس نے گذشتہ سال اپنے ڈرلنگ یونٹ اور کھاد بنانے والی کمپنی کا اندراج کرایا تھا۔

آرامکو کی ویب سائٹ کے مطابق اس نے 2011 میں ٹریڈنگ یونٹ قائم کیا تھا اوراب وہ خام تیل سے لے کر قدرتی مائع گیس (ایل این جی) تک ہر چیز کی تجارت کرتی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل پیدا کرنے والے خطے میں قومی تیل کمپنیاں ہربیرل سے زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے صرف خام مال برآمد کرنے پر انحصار نہیں کررہی ہیں بلکہ اس کے علاوہ انھوں نے دوسری تجارتی اشیاء کا بھی اپنی کاروباری فہرست میں اضافہ کیا ہے۔

مشرق اوسط آئی پی اوز کے لئے ایک روشن مقام کے طور پر ابھرا ہے کیونکہ تیل کی 100 ڈالر فی بیرل تک قیمتوں نے توانائی کمپنیوں کے خزانے کو بھرنے میں مدد دی ہے۔یوکرین پر روس کے حملے اور مرکزی بینکوں کی سخت گیرپالیسیوں نے دنیا بھر کمپنیوں کے اسٹاک مارکیٹوں میں اندراج پر پردہ ڈال دیا ہے لیکن خلیج میں اب تک زیادہ تراتارچڑھاؤ نہیں ہوا ہے اور عالمی سرمایہ کار خطے میں حصص کی ابتدائی پیش کشوں کی طرف مائل ہوئے ہیں۔

یوکرین جنگ کے تناظر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آرامکو نے اتوارکواسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ فہرست کے بعد اپنا سب سے زیادہ منافع حاصل کیا ہے۔کرونا وائرس کی وبا کے معاشی سرگرمیوں پراثرانداز ہونے والے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد سے اب توانائی کی عالمی سطح پرطلب بھی بحال ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں