فلسطینی اتھارٹی کا یہودی آباد کاروں کو گھر فروخت کرنے کی تحقیقات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی حکام نے الخلیل شہر کے ایک بند فوجی علاقے میں واقع فلسطینی رہائشی عمارت کو اسرائیلی آباد کاروں کو فروخت کرنے کے حوالے سے تحقیقات شروع کیں ہیں جب کہ عمارت کے مالک نے فروخت کی تردید کرتے ہوئے معاہدے سے دستبرداری کی تصدیق کی ہے۔

تقریباً ایک ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط یہ رہائشی عمارت ہیبرون کے مشرق میں کریات اربع کی بستی کے قریب واقع ہے اور تیس سال سے ویران تھی۔

گذشتہ جمعہ کو تقریباً 15 آباد کار خاندان رہائش کے لیے فرنیچر اور دیگر سامان لے کر عمارت میں داخل ہوئے۔ یہ تمام آباد کار بہت زیادہ خوش نظر آ رہے تھے۔ عمارت کے مالک نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک ویڈیو میں مکان یہودی آباد کاروں کو فروخت کرنے کے الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہودی آباد کاروں کی طرف سے مکان خریدنے کے جعلی دعوے کے خلاف پولیس کے پاس شکایت درج کرائیں گے۔

عمارت کے مبینہ خریدار ہانی حرش نے بتایا کہ اس نے یہ عمارت رئیل اسٹیٹ میں کام کرنے والے فلسطینی تاجروں کے ایک گروپ کے ساتھ شراکت میں خریدی ہے۔ دریں اثنا محمد عید الجعبری نے کہا کہ انہوں نے عمارت کو واپس لینے سے پہلے یروشلم کے ایک وکیل داؤد العزہ کے ذریعے ہانی حرش کو ابتدائی طور پر تقریباً سات لاکھ ڈالر میں یہ عمارت فروخت کی۔

اگرچہ الجبعری جن کے پاس یروشلم کی شناخت ہے اور وہ یروشلم میں رہتے ہیں نے اعتراف کیا کہ عمارت کو حرش کو فروخت کیا گیا۔ حرش ایک اسرائیلی آباد کار ہے جوالقدس میں بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مکان کی خریدو فروخت کی خبر لیک ہونے کا شک ہوا تو انہوں نے سودا منسوخ کردیا تھا۔

سیٹلمنٹ اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ یروشلم میں مقیم فلسطینی وکیل کی ایک تاریخ ہے کہ وہ آباد کاروں کو جائیدادیں خرید کر اور پھر اسرائیلیوں کو فروخت کر دیتا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اس نے سات لاکھ ڈالر کے عوض یہ عمارت فروخت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں