روس اور یوکرین

یوکرین کے سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیارڈال دیے،ازوفستل پلانٹ کا محاصرہ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپول میں سیکڑوں جنگجوؤں نے منگل کے روز ہتھیار ڈال دیے ہیں۔وہ ماریوپول کے ازوفستل اسٹیل پلانٹ کے بنکروں اور سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے۔ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد روسی فوج نے اس اسٹیل پلانٹ کا محاصرہ ختم کردیا ہے۔

روسی افواج نے روس اور کریمیا کے درمیان بحیرہ ازوف کے کنارے واقع بڑے شہر ماریوپول پرگذشتہ کئی ہفتے تک توپ خانے سے شدید گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں شہر کے بیشتر حصے کھنڈرات کا منظرپیش کررہے ہیں۔

عام شہریوں اور سیکڑوں یوکرینی جنگجوؤں نے، جن میں سے زیادہ ترازوف رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، ازفستل پلانٹ میں پناہ لے رکھی تھی۔ یہ سوویت دور کا ایک وسیع پلانٹ ہےاورسوویت رہ نما جوزف اسٹالن کے دورمیں بنایاگیا تھا۔ یہ پلانٹ جوہری ہتھیاروں کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے بنکروں اور سرنگوں کی بھول بھلیوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کے265 جنگجوؤں نے ہتھیارڈال دیے ہیں۔ان میں سے 51 شدید زخمی ہوئے ہیں اور ان کا علاج روس کے حمایت یافتہ یوکرین سے الگ ہونے والے خطے دونتیسک کے علاقے نووازفسک میں کیا جائے گا۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی جنگجوؤں کو سات بسوں پرروس نواز مسلح افواج کی حفاظت میں ازوفستل اسٹیل پلانٹ سے روانہ کیا گیا ہے۔اس عینی شاہد نے بتایا کہ یوکرینی جنگجوؤں میں سے کوئی زخمی نظر نہیں آئے۔

یوکرین کی فوجی کمان نے منگل کوعلی الصباح کہا تھا کہ اسٹیل پلانٹ کے دفاع کا مشن ختم ہوچکا ہے۔یہ واضح نہیں کہ ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی جنگجوؤں کا اب کیا بنے گا۔یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے ان جنگجوؤں کو بہادرمحافظ کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ روسی قانون سازوں نے کہا تھا کہ وہ ’’نازی مجرم‘‘ہیں۔ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ انھیں سزائے موت دی جاناچاہیے۔

ماسکو نے ازوف رجمنٹ کومبیّنہ بنیاد پرست اورروس مخالف قوم پرست حتیٰ کہ نازی ازم کے اہم مجرموں میں سے ایک کے طورپرپیش کیا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اسے یوکرین میں روسی بولنے والوں کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

کریملن نے کہا کہ جنگجوؤں کے ساتھ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جائے گا جبکہ یوکرینی نائب وزیر دفاع ہینا ملار نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے:’’ان کی وطن واپسی کے لیے تبادلےکا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا‘‘۔

محاصرہ

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے روس اور یوکرین کے ساتھ معاہدے کے بعد گذشتہ چند ہفتوں میں پلانٹ میں چھپے ہوئے زیادہ تریوکرینی شہریوں کو نکال لیا گیا تھا۔شہریوں نے بنکروں میں مایوس کن حالات کی خبردی تھی اور بتایا تھا کہ بعض جنگجوؤں نے کم سے کم طبی امداد کے ساتھ خوفناک جنگی چوٹیں برداشت کی تھیں۔

واضح رہے کہ یوکرین کی ازوف رجمنٹ 2014ء میں ایک انتہائی دائیں بازو کی رضاکار ملیشیا کے طور پر تشکیل دی گئی تھی جو روسی حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں سے لڑرہی تھی۔ان علاحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین کے روسی بولنے والے صنعتی مرکز ڈونبس کے کچھ حصوں پر قبضہ کرلیا تھا۔

رجمنٹ فسطائی، نسل پرست یا نیونازی ہونے کی تردید کرتی ہے اور یوکرین کا کہنا ہے کہ اسے نیشنل گارڈ میں ضم کرنے کے لیے اس کے بنیاد پرست قوم پرست دور کی اصلاح کی گئی ہے۔ یوکرین کی فوجی کمان نے اس کے تمام محافظوں کو’’ہمارے وقت کے ہیرو‘‘قرار دیا۔

کیف نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ یوکرین میں روسی بولنے والوں پر ظلم وستم کیا گیا ہے۔اس نے ملک کے فسطائی ایجنڈے سے متعلق الزام کو بھی مسترد کیا ہے اور اس کو روس کی جارحانہ جنگ کا بے بنیاد بہانہ قرار دیا ہے۔

دریں اثناء کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ صدر ولادی میرپوتین نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ ہتھیارڈالنے والے جنگجوؤں کے ساتھ ’’بین الاقوامی معیار کے مطابق‘‘سلوک کیا جائے گا۔

لیکن خبررساں ادارے انٹرفیکس نے وزارت انصاف کی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئےاطلاع دی ہے کہ روس کے پراسیکیوٹرجنرل کے دفتر نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ازوف رجمنٹ کو’’دہشت گرد تنظیم‘‘ تسلیم کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں