ایران مظاہرے

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے مذہبی راہ نمائوں بالخصوص سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی حکومت پر مسلسل مضبوط گرفت کے خلاف مظاہرے مرکزی صوبے اصفہان کے طول و عرض میں پھیل گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اصفہان کے شہر گول پیگان میں مظاہرین نے مذہبی راہنمائوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ہے۔ صدر ابراہیم رئیسی بھی ان مظاہروں میں تنقید کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے دوسرے صوبوں خوزیستان، لورستان، چار محل اور بختیاری میں بھی کیے جارہے ہیں۔ ان مظاہروں میں ہزاروں ایرانی احتجاج کر رہے ہیں۔

ان مظاہروں کی وجہ گزشتہ دنوں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے، پکانے کا تیل، مرغی، انڈے اور دودھ کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو رہی ہیں۔ بعض اشیاء کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

مظاہرین کے مطابق حکومت کے کریک ڈائون میں کم از کم 6 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ حکام نے ان دعوئوں کو مسترد قرار دے دیا ہے۔ تاہم ایک قانون دان کے مطابق ایک ہلاکت خوزستان صوبہ میں رپورٹ ہوئی ہے۔

سرکاری میڈیا میں ایک فوٹیج گردش کر رہی ہے جس میں ایک شہری کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی فائرنگ سے اس کا بیٹا ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ مظاہرے چار محل اور بختیاریہ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان مظاہروں میں اشیائے خوردنی کی مہنگائی کے خلاف احتجاج نے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہونے والے احتجاج میں بھی یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے۔ 2021ء میں پینے والے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بڑے احتجاج کی صورت اختیار کرنی تھی۔ 2019ء اور 2021ء میں ہونے والے مظاہرے غیر ساسی تھے۔ لیکن انہوں نے بھی سیاسی صورت اختیار کرلی تھی اور حکومت کی تبدیلی کے مطالبات ہونے لگے تھے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں ایران میں ہونے والے مظاہرے بھی غیر سیاسی تھے۔ ان کی وجہ معاشی ہو یا معاشرتی، یہ بھی سیاسی رنگ اختیار کرگئے تھے۔ العربیہ کے انگریزی ایڈیشن کو فائونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینٹر فیلو نے بتایا تھا کہ حالیہ برس میں ایرانی عوام نے ہر ممکن موقع پر حکمرانوں کے خلاف عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان احتجاجی سلسلوں میں الیکشن کا بائیکاٹ اور طول و عرض میں جلسے اور جلوس بھی شامل رہے ہیں۔

بن طلیبلو نے مزید بتایا ہے کہ بیلٹ باکس خالی پڑے رہ جاتے ہیں اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آتے ہیں۔ اس طرح وہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مزید مظاہروں کا خدشہ ظاہرہ کیا ہے۔

ایرانی معیشت کی حالت کمزور ہے۔ افراد زر میں 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ 8 کروڑ 50 لاکھ کی آبادی میں سے 50 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں