برطانیہ : ایک اور رکن پارلیمنٹ جنسی حملے اور آبرو ریزی کے الزامات کی لپیٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جونسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔

حکام کے اعلان کے مطابق مذکورہ رکن پارلیمنٹ پر کئی جرائم بالخصوص آبرو ریزی اور جنسی حملے کے ارتکاب کا شبہہ ہے۔

کنزرویٹو پارٹی نے نے اس رکن پارلیمنٹ کے نام کا انکشاف نہیں کیا تاہم پارٹی ترجمان کے مطابق ان کی جماعت نے اس رکن سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیات ختم ہونے تک وہ پارلیمنٹ کا رخ " نہ " کرے۔

ادھر لندن پولیس نے بتایا ہے کہ اس نے کئی جرائم کے ارتکاب کے شبہے میں پچاس کی دہائی کی عمر والے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔ ان جرائم میں عصمت دری ، جنسی حملہ اعتبار کے مقام کا استحصال اور سرکاری ملازمت کا مسلسل غلط استعمال شامل ہے۔

پولیس کے مطابق جنوری 2020ء میں جن الزامات کی اطلاع دی گئی ان کا تعلق 2002ء سے 2009ء کے درمیانی عرصے میں لندن میں پیش آنے والے واقعات سے ہے۔ پولیس نے منگل کی شام بتایا کہ مشتبہ شخص ابھی تک زیر حراست ہے۔

تقریبا ایک ماہ قبل کنزرویٹو پارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ عمران خان کو ایک پندرہ سالہ لڑکی پر جنسی حملے کے الزام میں عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔

البتہ عمران خان نے خود پر عائد الزام کی تردید کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ ماہ اپریل کے اواخر میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نیل پیرش مستعفی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل پیرش نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اپنے موبائل فون پر غیر اخلاقی فلمیں دیکھی تھیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اپریل میں بتایا تھا کہ برطانوی دار العوام کے کُل 650 ارکان میں سے 56 ارکان کے خلاف شکائتوں کے اندراج سے متعلق ذمے دار کے دفتر میں رپورٹ کرائی گئی۔ ان میں "جنسی" نوعیت کے نازیبا رویے سے متعلق شکایات خاص طور پر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں