بیروت بندرگاہ میں دھماکوں میں ملوث سیاست دانوں کی الیکشن میں کامیابی پر عوام برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان میں دو روز قبل ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ اس کے بہت سے اتحادی انتخابات میں شکست کھا گئے ہیں۔ تاہم بیروت کی بندرگاہ مین دو سال قبل ہونے والے دھماکوں میں ملوث دو سیاست دانوں کی کامیابی پر اردنی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ کی اتحادی امل تحریک کے دونوں رہ نما علی حسن خلیل اور غازی زعیتر پر بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ دونوں رہ نما جنوبی لبنان میں بعلبک ھرمل اپنی سیٹوں پر کامیاب ہوئے۔

ان دونوں افراد پر دسمبر 2020 سے الزام عائد کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کسی غلط کام سے انکار کیا اور ان کی پارلیمانی نشستوں سے انہیں دی گئی استثنیٰ کا حوالہ دیتے ہوئےانہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران حتمی طور پران کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ تفتیش کے نتائج مخفی رکھے گئے تھے۔

ریما الزاہد جن کے بھائی امین اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھےنے امل تحریک کے ان دونوں سیاست دانوں کی جیت کو ایک "مذاق" قرار دیا۔

کمیٹی کے ایک اور رکن کیان طلیس جن کے 39 سالہ بھائی محمد کی بھی اس تباہی میں موت ہو گئی نے انتخابی نتائج پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اس کے باوجود، متاثرین کے لواحقین نے دیکھا کہ انہیں بیروت میں حزب اختلاف کے نئے امیدواروں کی جیت سے ایک اخلاقی فروغ ملا۔ انہوں نے دارالحکومت کے دو انتخابی اضلاع میں 19 میں سے 5 نشستیں جیتیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں