روس اور یوکرین

یورپی یونین کا ہر فیصلہ امریکا کے جبر کے تحت ہوتا ہے : ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کا فیصلہ جبری ہوتا ہے۔ آج بدھ کے روز ریڈیو "اسپٹنک" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاکاروفا نے کہا کہ یورپ کے فیصلوں اور بیانات کا انتظامی مرکز درحقیقت یورپی اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین پر نہیں ہے۔

ماریا کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ذمے داران کے بیانات امریکی ہدایات کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ اس بات کا جاننا بہت دشوار ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کے کون سے فیصلے خود مختار اور آزاد حیثیت سے کیے جاتے ہیں۔

یورپی ممالک کے خلط ملط فیصلوں کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ "ان کی حکمت عملی کیا ہے .. وہ کیا چاہتے ہیں اور کس چیز کے لیے کوشاں ہیں .. ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا"۔

یاد رہے کہ رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے مغربی ممالک جن میں امریکا سرفہرست ہے ،،، یوکرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس دوران میں ماسکو پر ہزاروں کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

یورپی یونین 27 رکن ممالک پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثر ممالک نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد میں شمولیت اختیار کر لے۔ روس کے نزدیک یہ سرخ لکیر کے مترادف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں