افغانستان وطالبان

طالبان وزیر داخلہ کا امریکی چینل کو انٹرویو، افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے باور کرایا ہے کہ طالبان علم کو گراں قدر جانتے ہیں۔

حقانی نے یہ بات امریکی نیوز چینل CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ پورے انٹرویو کے دوران انہوں نے میزبان کے چہرے کی جانب دیکھنے سے گریز کیا اس لیے کہ میزبان "خاتون" تھی اور اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔

میزبان کرسٹیان امانپور نے حقانی سے یہ بھی پوچھا کہ آیا ان کی بیٹیاں ہیں جو اعلی ثانوی مرحلے میں زیر تعلیم ہوں تو اس کے جواب میں سخت گیر طالبان رہ نما کا کہنا تھا کہ "تعلیم اللہ کی نعمتوں میں سے ہے .. یہ عورتوں اور مردوں کے لیے ضروری ہے"۔ حقانی کے مطابق ان کی حکومت تعلیم کے لیے سازگار حالات یقینی بنانے کے واسطے قوانین وضع کرنے اور صورت حال بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔

افغان وزیر داخلہ نے زور دیا کہ طالبات کو اپنی سلامتی کے تحفظ اور اپنی ناموس کی خاطر حجاب کرنا ضروری ہے۔

امریکا نے سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر 1 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔

طالبان کے ساتھ تعامل کے حوالے سے حقانی کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس سلسلے میں واضح فیصلہ کریں۔ حقانی کے مطابق طالبان نے مغرب کو کئی مثبت اشارے بھیجے تھے۔

افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں آزادی کی صورت حال اور حقوق کا تحفظ مسلسل زیر بحث ہے۔ ان کے مطابق منفی تاثر بتدریج تبدیل ہونا شروع ہو چکا ہے۔

حقانی کا یہ بیان طالبان حکومت کی جانب سے نئے سخت قوانین جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان قوانین میں ملک میں خواتین پر برقع پہننے کی پابند لازم قرار دی گئی ہے۔ ملک میں اعلی ثانوی مرحلے میں زیر تعلیم ہزاروں لڑکیاں اس وقت کالج جانے یہاں تک کہ مخلوط جامعات میں جانے سے محروم ہیں۔ اس کے مقابل تمام عمروں کے مردوں کو کئی ماہ قبل اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں