دو سال کے تعطل کے بعد تونس میں یہودیوں کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

’کوویڈ 19‘ کی وجہ سے سال 2020ء اور 2021ء کے دوران تونس میں یہودیوں کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کی منسوخی کے بعد رواں سال تونس کے جربا جزیرے کے "غریبہ" معبد میں مذہبی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق ’غریبہ‘ معبد میں کل بدھ کو یہودی زائرین کا ایک گروپ مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے پہنچا۔ اس موقعے پرسیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ زائرین کی ایسے چیکنگ کی گئی جیسے ہوائی اڈوں پر کی جاتی ہے اور تلاشی کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا گیا۔

اس موقعے پر یہودی زائرین نے موم بتیاں روشن کرنے، انڈوں پر خواہشات لکھنے، انہیں مندر کے ایک چھوٹے غار کے اندر رکھنے، خشک میوہ جات کھانے، اور "بخا" (انجیر کے پھل سے نکالا ہوا مشروب) پینے کی اپنی رسومات ادا کیں۔

کچھ زائرین سفید اور نیلے رنگ سے سجائی گئی دیواروں کے پاس یادگاری تصاویر اور ویڈیوز بناتے بھی دیکھے گئے۔

خیال رہے کہ ’غریبہ‘ معبد کو تونس ہی نہیں بلکہ افریقی خطے میں یہودیوں کی اہم ترین عبادت گاہ قرار دیا جاتا ہے مگر پچھلے چند برسوں میں سالانہ رسومات میں پانچ ہزار سے زیادہ زائرین نہیں آئے۔

تونس میں اس وقت ایک ہزار سے زائد یہودی آباد ہیں اور 1956 میں ملک کی آزادی سے قبل ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔

اس سال یہودیوں کی زیارت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دوسری طرف تونس کی حکومت گذشتہ دو سیزنوں کی کمی دور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

75 سالہ یہودی زائر سولنگ عزوز جو تونس میں پیدا ہوئے مگر 58 سال سے فرانس کے مارسیل شہر میں مقیم ہیں نے بتایا کہ "میرے والد جزیرے جربا سے ہیں۔ میرے لیے (غریبہ کا دورہ) بہت اہم ہے۔ چھوٹی عمر سے میں یہاں آتا رہا ہوں۔ ریشمی قمیض اور موتیوں کا ہار پہنے ہوئے عزوز نے اے ایف پی کو بتایا کہ "میں نےبڑھتی عمر کے ساتھ ہی مذہبی رسومات میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں