’تیر انداز چیمپیئن‘ بننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر محض اتفاق نے کھلاڑی بنا دیا‘

سعودی عرب کی حوریہ قشقری جسے تیر اندازی کے شوق کے لیے ملازمت چھوڑنا پڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی خاتون تیر انداز کا کہنا ہے کہ اس کا کھیلوں اور تیر اندازی کے مقابلوں میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ محض ایک حادثے نے اسے کھلاڑی بنا دیا۔

سعودی خاتون تیر انداز حوریہ قشقری کا کہنا ہے کہ روشنی کا وہ نقطہ جس پر میں نے اپنے تیروں سے نشانہ بنایا وہ میری ندگی کا سب سے اہم موڑ بن گیا۔ اس کے بعد میں نے انتھک جستجو اور پرجوش کام کے ذریعے ایک حقیقی گول اسکور کیا اور کھیلوں کی دنیا میں آنے کی راہ ہموار ہوگئی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ اپنے انٹرویومیں قشقری نے وضاحت کی کہ باقاعدہ کھیلوں میں ان کی شمولیت حرا ویمنز کلب کے ذریعے ہوئی۔ جہاں مملکت میں تیراندازی میں پہلے نمبرپر آنے والی ٹیم کے کوچ محمد ترکمان کی نگرانی میں تربیت حاصل کی۔ اس ٹریننگ نے ان کی تیراندازی کی مشق کو بہت بہتر بنا دیا۔

حکومت کی حمایت اور کلب کی دلچسپی

قشقری نے مزید کہا کہ انہیں اور ان کی ٹیم کی دیگر خواتین کھلاڑیوں کو سعودی عرب کی وزارت کھیل اور سعودی تیر اندازی فیڈریشن کی تعاون فراہم کیا گیا۔ جب انہوں نے کلب جوائن کیا تو ان پر کلب کی توجہ بڑھ گئی۔ وہاں سے ان کے لیے خود کو ترقی دینے اور دوسری ٹیموں کے ساتھ مقابلے کے لیے ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے دروازے کھل گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں پیشہ ور خواتین کھلاڑیوں کا ایک گروپ شامل ہے جنہوں نے جدہ ویمن شوٹنگ چیمپئن شپ جیسی چیمپئن شپ حاصل کرنے اور 3 تمغے جیتنے میں کردار ادا کیا تھا۔ان میں سے پہلا گولڈ میڈل اسماء الزہرانی نے تیراندازی سے حاصل کیا تھا۔ یہ مقابلہ 18 میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔ اتنے فاصلے پر مقابلے میں کریمہ عمران نے کانسی کا تمغہ جیتا جبکہ تیسرا کانسی کا تمغہ رویدہ المزروعی نے 30 میٹر کے فاصلے پر حاصل کیا۔

قشقری نے تیر اندازی کا آغاز کہاں سے کیا؟

تیر انداز حوریہ قشقری نے انکشاف کیا کہ اس نے پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت شروع کی۔ پھر ایک کاروباری شخصیت بن گئیں۔ اور پھر اپنی بیٹی کے ساتھ موسم گرما کی سرگرمی میں شامل ہونے کے بعد تیراندازی کے کھیلوں سےمیری محبت اور جنون اور بڑھ گئی۔

اس کے بعد سے وہ اس کھیل سے منسلک ہیں اور انہوں نے متعدد نامور کھلاڑیوں کے ساتھ مشغلے کے طور پر اس میں تربیت جاری رکھی۔ کوچ نے ان کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا اور حرا ویمن کلب میں شمولیت کے لیے اہل بنایا۔ یہ کوئی معمولی کلب نہیں بلکہ خواتین کا تیر اندازی کے میدان میں پہلا اور سب سے بڑا کلب ہے جس نے ریاض چیمپیئن شپ میں تین تمغے جیت رکھے ہیں۔

آخری خواہش

حوریہ قشقری کا کہنا تھا کہ تیر اندازی کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ ان میں جسمانی فٹنس بھی اہم ہے۔ تیر اندازی کے کھیل کے لیے جسم کے بالائی حصے بالخصوص ہاتھوں، کندھوں اور کمر میں پٹھوں کی مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ذہن کو صاف اور زیادہ ارتکاز برقرار رکھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کو کوچ کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہے۔ وہ ٹیم کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہر کھلاڑی کی خوبیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ٹیم مزید مقامی، عرب اور بین الاقوامی ٹورنامنٹ کھیلنے کی منتظر ہے۔ یہ تجربات ٹیم کی صلاحیت میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں