فلسطینی باشندے اپنی اراضی یہودی بستیوں میں تبدیل ہونے پر غاروں میں رہائش پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا کے ایک گاؤں جنبا سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون نجاح جبارین اپنے 17 افراد پر مشتمل کنبے کے ساتھ ایک پرانے غار میں رہائش پذیر ہیں۔ اس گھرانے نے غار کو باورچی خانے ، بیٹھنے اور سونے کی مشترکہ جگہ ، بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور ذخیرہ اندوزی کی جگہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں غار کے گرد دو چھوٹے کمرے بھی بنا رکھے ہیں۔ تاہم اس گھرانے کے لیے زندگی بہت دشوار ہو گئی ہے۔

اس غار میں دھوپ کا کوئی گزر نہیں اور ساتھ ہی وہاں سے غیر صحت مند بُو بھی آتی رہتی ہے۔ دو چھوٹے کمرے اتنے بڑے کنبے کے لیے کافی نہیں لہذا غار میں رہنا نا گزیر ہے۔

جنبا گاؤں اس علاقے میں اُن 22 چھوٹے رہائشی کمپاؤنڈز میں سے ہے جن کو اسرائیل ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے چکا ہے۔ سال 1980ء سے یہاں عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہے۔

علاقے کے بعض لوگ کوچ کر جانے اور متبادل جگہ کی تلاش پر مجبور ہو گئے۔ تاہم بقیہ لوگ علاقے میں اپنی روزی روٹی کے ذرائع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی زرعی زمین اور مویشی ہیں۔

جنبا گاؤں کی آبادی 10 ہزار نفوس پر مشتمل ہے تاہم اب یہاں محض چند درجن افراد رہتے ہیں۔

نجاح جبارین کے مطابق 1967ء میں اسرائیلی قبضے سے قبل اس گاؤں میں 40 گھر آباد تھے۔ تاہم اسرائیلی حکام نے ابتدائی برسوں میں ہی ان سب کو گرا دیا اور صرف 4 گھر باقی رہ گئے۔

اسرائیل نے مسافر یطا کے علاقے کو 1980ء نو گو ملٹری ایریا قرار دیا۔ اس پر علاقے کے لوگوں نے اسرائیلی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اپیل کا سلسلہ جاری رہا اور رواں سال 7 متئی کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے علاقے کے 8 دیہات کی آبادی کی جانب سے پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔ عدالت نے جواز پیش کیا ہے کہ 1980ء میں جب اسرائیلی فوج نے اپنا فیصلہ جاری کیا تھا تو اس وقت علاقے کے لوگ یہاں سکونت پذیر نہ تھے۔

بہت سے شواہد اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ ان دیہات کے لوگ اسرائیل کی تاسیس سے قبل یہاں معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔ اسرائیل کے ہاتھوں انہدام سے بچ جانے والے چار پرانے گھر سلطنت عثمانیہ اور برطانوی دور کے قائم ہیں۔

نجاح کے مطابق ان کے دادا 1901ء میں اسی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے چچا کا گھر ابھی تک قائم ہے جو اسرائیل کی تاسیس سے قبل تعمیر ہوا تھا۔

مسافر یطا میں دیہاتی کونسل کے سربراہ نضال یونس کا کہنا ہے کہ "اسرائیل کا مقصد واضح ہے۔ وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو اسرائیل میں یہودیوں کے کمپاؤنڈز کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ وہ گرین لائن کو مٹانا چاہتا ہے جو فلسطین اور اسرائیل کی ریاست کے بیچ تقسیم کرنے والی لائن شمار ہوتی ہے"۔

اسرائیل مسافر یطا کی اراضی پر 10 یہودی بستیاں قائم کر رہا ہے۔ ان کو سیکورٹی خاردار تار کے ساتھ محفوظ بنایا گیا ہے۔ ان کے اندر تعلیم و صحت سمیت تمام سہولیات پیش کی گئی ہیں۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ مذکورہ دیہات کا رخ کریں گے اور وہاں آباد افراد کی معاونت کریں گے تا کہ وہ اپنے دیہات میں رہ سکیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے سے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس کا مقصد اس فیصلے پر عمل درامد سے روکنا ہے جس کا تعلق ان دیہات میں کئی دہائیوں سے سکونت پذیر سیکڑوں فلسطینی خاندانوں کی جبری ہجرت سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں