بائیڈن بائیں بازو کی خوشنودی تج کر سعودی عرب کے دروازے پرآنے کو تیار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگرچہ ریاض حکومت نے امریکی صدر جو بائیڈن کے لیے اپنے دروازے کھول ہی دیے تاہم یہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ پیش رفت سلسلہ وار مثبت نقطہ ہائے نظر کے بعد سامنے آئی ہے۔ بائیڈن نے بھی امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کو "مضبوط اور تاریخی" قرار دیا۔

البتہ ڈیموکریٹک رہ نما نے اپنے دور صدارت کا آغاز واشنگٹن کے روایتی حلیفوں کو پریشان کرنے والے پیغامات سے کیا تھا۔

امریکی نیوز چینل CNN نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے آئندہ ماہ بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے لیے رابطہ کاری کی کوشش کی۔ یہ امریکی صدر کے مشرق وسطی کے اس دورے کا حصہ ہو گا جس کا بائیڈن اس سے پہلے اعلان کر چکے ہیں۔ تاہم دورے کے پروگرام کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

چینل نے اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بائیڈن اور سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان کئی ماہ کی سرد سفارت کاری کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کریں گے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر کے موقف میں واضح تبدیلی کا مظہر ہو گی جو ایک مرتبہ سعودی عرب کو "اچھوت" ریاست قرار دے چکے ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ آیا آئندہ ماہ بائیڈن کی سعودی ولی عہد کے ساتھ ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن ماضی میں یمن کی جنگ اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تناظر میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

تاہم سعودی عرب ولی عہد کی زبانی مذکورہ امریکی موقف کا سخت جواب دے چکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل "دی اٹلانٹک" جریدے کے ساتھ انٹرویو میں جب شہزادہ محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ آیا صدر جو بائیڈن کو ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے تو اس پر بن سلمان نے بے نیازی سے جواب دیا کہ "سیدھی سی بات ہے کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ،،، انہیں امریکا کے مفادات کے بارے میں سوچنا چاہیے ،،، ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ آپ کو امریکا میں لیکچر دیں اور بالکل اسی طرح آپ بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتے ہیں"۔

جو بائیڈن نے فروری 2021ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ یمن میں آئینی حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کے زیر قیادت جنگ کی حمایت ختم کر رہے ہیں۔ اسی طرح بائیڈن نے ایران نواز حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق سابق صدر ٹرمپ کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد امریکا نے مغرب کو روس کے توانائی کے ذرائع سے بے نیاز کرنے کی مہم کی قیادت کی۔ ایسے میں دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی جانب سے کوئی لچک سامنے نہیں آئی۔

یوکرین میں روس کی جانب سے جنگ جاری رہنے کے ساتھ توانائی کی عالمی منڈیاں عدم استحکام سے دوچار ہوئیں اور مغربی ممالک بھی تیل کے دیگر ذرائع پر انحصار پر مجبور ہو گئے خواہ ان کا تعلق حلیفوں سے یا پھر دشمن ممالک سے ہو۔ اس دوران میں امریکی انتظامیہ کے اندر اس بات کے حوالے سے بحث بڑھ گئی کہ سعودی عرب کے ساتھ مثبت تعلق برقرار رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔

سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا امریکا کا حالیہ دورہ بھی اس جانب اشاروں میں اضافہ کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے بیچ اختلاف کا صفحہ پلٹ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن نے بھی ریاض میں اپنا سفیر نامزد کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ منصب طویل عرصے سے خالی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں