روس اور یوکرین

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کا86 واں روز امریکی اور روسی افواج کے سربراہان کا مکالمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 86 واں روز ہے۔ روسی افواج نے یوکرین کے عسکری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور دونباس کی اراضی کو آزاد کرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ادھر مغربی ممالک کی جانب سے کئیف کی مالی اور عسکری سپورٹ جاری ہے۔

ماسکو اس وقت دونباس کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت کے حامل علاقے کے ایک حصے پر 2014ء سے ماسکو نواز علاحدگی پسندوں کا کنٹرول ہے۔

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے آج جمعے کے روز کہا کہ روسی افواج دونباس میں دباؤ کو شدید بنا رہی ہیں جو ان افواج کے ہاتھوں "جہنم" میں تبدیل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب روسی افواج کے چیف آف اسٹاف ولیری گیراسیموف اور امریکی افواج کے چیف آف اسٹاف مارک میلی کے درمیان یوکرین کی صورت حال زیر بحث آئی۔ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد یہ اس سطح پر ہونے والی پہلی بات چیت ہے۔

روسی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گیراسیموف اور میلی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت جمعرات کے روز ہوئی۔ اس دوران میں مشترکہ دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا جن میں یوکرین کی صورت حال شامل ہے۔

زمینی صورت حال میں جمعرات کے روز لوگاسک کے علاقے میں روسی بم باری کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔ مقامی گورنر کے مطابق بم باری میں زیادہ تر رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے سبب ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح دونیسک کے علاقے میں بھی روسی کارروائی میں 5 شہرے مارے گئے۔

روس نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں ماریوپول میں واقع آزوفستال اسٹیل کمپلیکس میں مورچہ بند تقریبا 800 یوکرینی فوجی اہل کاروں نے خود کو روسی افواج کے حوالے کر دیا۔ اس طرح پیر کے روز سے ہتھیار ڈالنے والوں کی مجموعی تعداد 1730 ہو گئی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں