اسرائیل میں ’آبلہ بندر‘ کے پہلے کیس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے ہفتے کے روز’آبلہ بندر‘(منکی پاکس)کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔اس سے پہلے افریقا کے کچھ حصوں میں اس وائرس سے بیماری کے پھیلنے کا پتا چلا ہے اور متعدد یورپی اور شمالی امریکا کےممالک نے بھی اپنے ہاں اس کے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔

تل ابیب کے اشیلوف اسپتال کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک 30 سالہ شخص کا اس وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ وہ حال ہی میں مغربی یورپ سے آبلہ بندر کی علامات کے ساتھ ملک میں لوٹا تھا۔

اسرائیلی وزارت صحت نے جمعہ کو بتایا تھا کہ اس شخص کا بیرون ملک آبلہ بندرکے شکارایک اورشخص سے آمنا سامنا ہوا تھا۔اس کے بعدجانچ کے لیے اس کا طبی نمونہ لیا گیا تھا اور اس کی حالت کے پیش نظر اس کو اسپتال میں تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

یہ وائرس مخصوص آبلوں اورچیچک کی طرح کے دانوں کا سبب بنتا ہے لیکن اس سے لاحق ہونے والا مرض شاذونادر ہی مہلک ہوتا ہے۔یہ ابتدا میں وسطی اور مغربی افریقا کے کچھ حصوں میں بندرسے انسانوں میں پھیلا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیئم، اٹلی، پرتگال، اسپین اور سویڈن کے علاوہ امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی اس کے کیسوں کا پتا چلا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ یہ وائرس دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیل سکتا ہے۔

اس کی بیماری کی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، سوجن ، سردی، تھکاوٹ اور ہاتھوں اور چہرے پرچیچک جیسے دانے شامل ہیں۔یہ وائرس کسی متاثرہ شخص سے جلد کے زخموں یاتھوک کو چھونے کے ساتھ ساتھ بستر یا تولیے جیسی مشترکہ اشیاء کے استعمال کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق آبلہ بندرعام طور پر دو سے چارہفتوں کے بعد صاف ہوجاتا ہے اور جسمانی اعضاء پرپیپ والے دانوں سے لگنے والے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں