جماعت اسلامی مصرسمیت پانچ شدت پسند تنظیمیں امریکا کی بلیک لسٹ سے خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے کل جمعہ کو مصر کی سخت گیر مذہبی جماعت ’جماعت اسلامی‘ سمیت پانچ شدت پسند تنظیموں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

ان پانچ تنظیموں کی فہرست میں مصر کے سابق صدر محمد انور السادات کے قتل کی ذمہ دار جماعت اسلامی، مجاہدین شوری کونسل ’اکناف بیت المقدس‘ اور انتہا پسند یہودی "کہاناحی" شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے چند روز قبل اطلاع دی تھی کہ امریکا 5 ایسی شدت پسند تنظیموں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی تیاری کر رہا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بیرون ملک دہشت گردی کا خطرہ نہیں رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے کچھ ایسے گروپوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جو کسی وقت ایشا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے نیٹ ورک چلاتی تھیں اور ان کے ہاتھوں ہزاروں نہیں تو سیکڑوں لوگ ضرور ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں اب فعال نہیں ہیں، لیکن یہ فیصلہ بذات خود صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور جن ممالک میں یہ تنظیمیں سرگرم ہیں، کے لیے سیاسی حساسیت کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس سے ان تنظیموں کے حملوں کے متاثرین خاندانوں کی جانب سے تنقید کی جا سکتی ہے۔

امریکی ایجنسی کے مطابق ان تنظیموں میں اسپین کی علاحدگی پسند مسلح تنظیم ’ایٹا باسکیہ‘ جاپان کی جاپانی اوم شنریکیو فرقہ، انتہا پسند یہودی کاخ تحریک اور دو اسلامی تنظیمیں شامل ہیں جو اس سے قبل اسرائیل، فلسطینی علاقوں اور مصر میں سرگرم رہی ہیں شامل ہیں .

جمعہ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو اس اقدام کے بارے میں مطلع کیا دوسری طرف یہ بحث جاری ہے کہ آیا ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالا جانا چاہیے یا نہیں۔

توقع ہے کہ امریکہ اگلے ہفتے دہشت گردوں کی فہرست سے پانچ تنظیموں کے نام نکالنے کا باضابطہ اعلان کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں