سعودی عرب میں آم کے 50 سال پرانے درخت کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی سرزمین پر آم کی کاشت تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر آج سے نصف صدی قبل مملکت میں آم کے درختوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ مملکت کے علاقے جازان میں 50 سال قبل آم کا ایک پودا لگایا گیا جو آج سعودی عرب میں آم کا سب سے پرانا درخت کہلاتا ہے۔

جازان کے علاقے میں قائم زرعی تحقیقی مرکز میں آم کا سب سے قدیم درخت موجود ہے اور یہ میدانی تجربات کی کامیابی اور پھر جازان کے علاقے میں آم کی کاشت کی کامیابی اور پھیلاؤ کا باعث بنا۔ یہاں تک کہ یہ ایک اہم ترین درخت بن گیا۔ یہاں سے کسانوں کے لیے معاشی امکانات میں اضافہ ہوا اور زرعی مصنوعات کا ایک نیا دروازہ کھلا۔

یہ درخت نومبر 1972 میں لگایا گیا تھا۔ اس وقت اس کی لمبائی تقریباً 30 میٹر ہے۔ جازان کے علاقے میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے زرعی تحقیقی مرکزکی جانب سے اعلیٰ اقتصادی منافع کے ساتھ زرعی فصلوں کی فراہمی کی کوششوں کا گواہ ہے۔

تحقیقی مرکز نے سنہ 1982/1984ء کے دوران فلوریڈا، ہندوستان، مصر اور آسٹریلیا سے آم کی 20 اقسام کو متعارف کرانے کے لیے سعودی عرب کی سر زمین پر ان کی کاشت کاری کی گئی۔ان اقسام کی تحقیق پر کئی سال مطالعہ کیا۔ اس وقت کے مطالعے سے ثابت ہوا کہ جازان کا خطہ آم کی کاشت کے لیے ماحولیات کے لحاظ سے موزوں ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب جازان کے علاقے میں آم کی کاشت پھیل چکی تھی ریسرچ سینٹر نے متعدد ممالک سے نئی اقسام متعارف کروا کر اپنے زرعی تجربات کو جاری رکھا۔ اب اس خطے میں آم کی 60 اقسام تک پہنچ چکی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی مرکز کاشتکاروں کوآم کی کاشت کے لیے تمام تکنیکی ہدایات فراہم کرتا ہے۔ آم کے لیے ہلکی پیلی زمین، اچھی نکاسی، معتدل تیزابیت اور زرخیز زمینیں آم کی کاشت کے لیے موزوں جگہ ہیں۔ اس پھل کے لیے نسبتاً زیادہ درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔

آم کے درخت کی پیداوار 4 سے 5 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے اور درخت کے 15 سال کی عمر تک پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر درخت کی دیکھ بھال جاری رکھی جائے تو اس طرح وہ معاشی پیداوار کے آغاز عمر بھر پیداوار جاری رکھ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں