50سے زیادہ ڈیموکریٹس کاایف بی آئی سے شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی کانگریس کے ستاون ڈیموکریٹس ارکان نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹرکرسٹوفررے اور وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کو ایک خط لکھا ہے جس میں فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی امریکا کی قیادت میں تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔

امریکی قانون سازوں کے اس گروپ نے لکھا ہےکہ ہم محکمہ خارجہ اورفیڈرل بیوروآف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ محترمہ ابوعاقلہ کی موت کی تحقیقات شروع کریں۔

ابوعاقلہ کو گذشتہ ہفتے اس وقت گولی مار کرقتل کردیا گیا تھاجب وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی چھاپامارکارروائی کی کوریج کررہی تھیں۔اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر فلسطینی مسلح افراد کوان کی موت کا ذمے دار ٹھہرایا لیکن بعد میں اس بات سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ گولی کہاں سے آئی تھی؟

لیکن فلسطین نے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ابوعاقلہ کو لگنے والی گولی اسرائیلی فوج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ جمعرات کواپنے ایک فوجی کی اس رائفل کی نشان دہی کی اطلاع دی تھی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کو گولی ماری گئی تھی لیکن ایک فوجی عہدہ دار نے کہا ہے کہ اس بندوق کی اس وقت تک یقینی شناخت نہیں ہوسکتی جب تک فلسطینی تجزیے کے لیے ابوعاقلہ کو لگنے والے گولی مہیّانہیں کردیتے۔

صہیونی فوج کے اس اعلان سے ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت کا ایک معمولی سا اشارہ مل گیا ہے۔انھیں 11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوجیوں کی چھاپا مارکارروائی کی کوریج کے دوران میں جان لیوا گولی مار دی گئی تھی۔

فلسطینی حکام نے ابوعاقلہ کے ساتھی صحافیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ انھیں قریب تعینات اسرائیلی فوجیوں نے گولی کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھیں فوجیوں اور فلسطینی مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کے دوران میں گولی ماری گئی تھی اورمناسب تجزیے کے بغیراس بات کا تعیّن نہیں کیاجاسکتا کہ یہ مہلک گولی کس نے چلائی تھی۔

نیدرلینڈزکی ایک آزاد اوپن سورس ریسرچ فرم بیلنگ کیٹ نے سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی ویڈیوز سے جمع ہونے والے مواد کا اپنا تجزیہ پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ابتدائی نتائج نے فلسطینی گواہوں کی حمایت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کی تجربہ کارنامہ نگاراسرائیلی گولی ہی کا نشانہ بنی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں