امریکاکے اعلیٰ فوجی جنرل کی کیڈٹس کو روبوٹ اور ڈرونز سے جنگوں کی تیاری کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے فوجی سربراہ نے اپنے فوجیوں کی اگلی نسل کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مستقبل کی جنگوں کے لیے خود کو تیار کریں کیونکہ وہ آج کی جنگوں کی طرح بہت کم نظرآسکتی ہیں اور ان سے مختلف ہوسکتی ہیں۔

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف آرمی جنرل مارک میلی نے ایک ایسی دنیا کی بھیانک تصویرکھینچی ہے جومزید غیرمستحکم ہوتی جا رہی ہے اور بڑی طاقتیں عالمی نظام کو تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔انھوں نے ویسٹ پوائنٹ پر امریکی ملٹری اکیڈمی میں فارغ التحصیل کیڈٹس سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی ذمے داری اٹھائیں گے کہ امریکا تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ عظیم طاقتوں کے درمیان بین الاقوامی تنازع کے امکانات بڑھ رہے ہیں، کم نہیں ہو رہے ہیں۔ گذشتہ 70 سال سے ہم نے فوجی طور پرجوبھی حد سے زیادہ لطف اٹھایا،وہ تیزی سے ختم ہورہا ہے اور درحقیقت امریکا کو جنگ، خلا، سائبر، سمندری، فضا اور یقیناً زمین کے ہر دائرے میں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اب غیرچیلنج شدہ عالمی طاقت نہیں رہا ہے۔اس کے بجائے یورپ میں روسی جارحیت، ایشیا میں چین کی ڈرامائی اقتصادی اور فوجی ترقی کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل خطرات اور مشرق اوسط اورافریقا میں دہشت گردوں کی عدم استحکام کی کارروائیوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں فوجی حکام جو کچھ دیکھ رہے ہیں،اس کے متوازی تصویرکشی کرتے ہوئے جنرل میلی نے کہا کہ مستقبل کی جنگ انتہائی پیچیدہ ہوگی جس میں مکار دشمن کے ساتھ شہری جنگ ہوگی جس کے لیے طویل فاصلے تک درست ہتھیاروں اور نئی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ امریکا پہلے ہی یوکرینی فوج کو نئے، ہائی ٹیک ڈرونزاور دیگرجدیدہتھیارمہیا کررہا ہے-بعض کیسوں میں توایسے آلات بھی مہیا کررہا ہے جو ابھی تیاری اور جانچ کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ کندھے سے لانچ کیے جانے والے سوئچ بلیڈ ڈرون جیسے ہتھیار روسیوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

جیسا کہ یوکرین میں جنگ منتقل ہوچکی ہے۔ یہ جنگ یوکرینی دارالحکومت کیف سے مشرقی خطے ڈونبس کے قصبوں میں ایک سخت شہری جنگ کی طرف منتقل ہوچکی ہے اور وہاں مختلف قسم کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

ابتدائی ہفتوں میں سٹنگر اورجولین میزائل جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی لیکن اب اس کا زور توپ خانے اور ہواِٹزرتوپوں کی ترسیل میں اضافے پر ہے۔

جنرل میلی نے کہا کہ امریکی فوج پرانے تصورات اور ہتھیاروں سے چمٹانہیں رہ سکتی بلکہ اسے فوری طور پراس طاقت اورسازوسامان کو جدید بنانا اور ترقی دینا ہوگا جو عالمی تنازع کوروک سکتا ہے یا وقت ضرورت اس سے جنگ جیتنا ممکن ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ تربیتی ادارے سے فارغ التحصیل افسروں کو امریکی افواج کے سوچنے، تربیت اور لڑنے کے انداز کو تبدیل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ کل کے فوج کے رہ نماؤں کے طورپر نئے تربیت یافتہ سیکنڈ لیفٹیننٹ روبوٹک ٹینکوں، جہازوں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ لڑیں گے اور مصنوعی ذہانت، مصنوعی ایندھن، تھری ڈی مینوفیکچرنگ اور انسانی انجینئرنگ پرانحصار کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ آپ کی نسل ہوگی جو اس بوجھ کو اٹھائے گی اورامن کو برقرا رکھنے، بدامنی پر قابو پانے اور عظیم طاقت کی جنگ کے آغاز کو روکنے کی ذمے داری اٹھائے گی۔واضح الفاظ میں میلی نے بتایا کہ عظیم طاقتوں کے درمیان جنگوں کوروکنے میں ناکامی کیسی نظر آتی ہے۔

جنرل میلی نے بتایا کہ پہلی جنگ عظیم میں میوزآرگون کے معرکے میں اکتوبر سے نومبر 1918 تک چھے ہفتوں میں 26 ہزارامریکی فوجی اور میرینز ہلاک ہوئے تھے۔غورکیجیے کہ نارمنڈی کے ساحلوں سے پیرس کے زوال تک آٹھ ہفتوں میں 26 ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 1944 کے موسم گرما میں ہلاک ہونے والے 58,000 امریکیوں کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ یہ عظیم طاقت کی جنگ میں کام آنے والی انسانی قیمت تھی اور یہ قصاب کا بل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں