روس اور یوکرین

دباؤ کے باوجود تُرکی کی فن لینڈ اور سویڈن کی ’نیٹو‘ میں شمولیت پر شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے فن لینڈ اور سویڈن کی جانب سے الحاق کے لیے جمع کرائی گئی دو درخواستوں کے لیے اتحاد کے دروازے کھولنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔

اسٹولٹن برگ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا کہ وہ ایردوآن کے ساتھ متفق ہیں کہ تمام اتحادیوں کے سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔

اس تناظر میں ایردوآن نے سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک کو "دہشت گرد" تنظیموں کی سیاسی اور مالی مدد کے طور پر بیان کیے جانے والے اقدامات کو ختم کرنے اور انہیں مسلح کرنا بند کرنے کی ضرورت ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ہفتے کو اطلاع دی ہے کہ ایردوآن نے اینڈرسن کے ساتھ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) میں شمولیت کی درخواست پر تبادلہ خیال کیا۔ انقرہ نے حال ہی میں اس اتحاد میں شامل ہونے کے سویڈن اور فن لینڈ کو مسترد کردیا تھا۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ ایردوآن نے اینڈرسن پر اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے ملک کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد دفاعی صنعتوں میں ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اناطولیہ کے مطابق ترک صدر نے سویڈن کے لیے "ٹھوس اقدامات" کرنے کے لیے انقرہ کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ دستان ورکرز پارٹی (PKK) اور شام اور عراق میں اس کی توسیع کے بارے میں ان کے ملک کے خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

بعد ازاں اناطولو ایجنسی نے کہا کہ ایردوآن نے اپنے فن لینڈ کے ہم منصب ساؤلی نینیسٹو کے ساتھ فون پر فن لینڈ کی نیٹومیں شمولیت اور دو طرفہ تعلقات پر بات کی۔ ایجنسی نے ترک صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو اتحادی کے لیے خطرہ بننے والی دہشت گرد تنظیموں کو نظرانداز کرنے کا نقطہ نظر دوستی اور اتحاد کے جذبے کے مطابق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں