ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورۂ عمان ،متعدد تجارتی معاہدوں پر دست خط متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پیر کے روزخلیجی سلطنت عُمان کے سرکاری دورےپرمسقط پہنچے ہیں۔انھوں نے عُمان کی سلطان ہیثم بن طارق السعید سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پربات چیت کی ہے۔ان کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان متعدد تجارتی معاہدوں پردست خط متوقع ہیں۔

عُمانی حکومت کے ایک بیان کے مطابق سلطان ہیثم بن طارق السعید نے ہوائی اڈے پر ایرانی صدر کا استقبال کیا اورانھیں شاہی محل آمد پر21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

صدررئیسی عمان کا یہ ایک روزہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے بارے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔عمان نے اصل معاہدے کی بحالی کی کوششوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ابراہیم رئیسی نے روانگی سے قبل کہا کہ ان کے دورے سے عمان کے ساتھ تجارتی تبادلے میں یقینی طور پر بہتری آئے گی۔انھوں نے مزیدکہا کہ دونوں ممالک سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

رئیسی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ان کے دورے میں مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دست خط کیے جائیں گے۔ان میں ٹرانسپورٹ، توانائی، سیاحت اور صحت کے شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

ایرنا نے بتایاکہ 50 ایرانی تاجروں کے وفد نے گذشتہ ہفتے عمان کا سفرکیا تھا اور ایران کے ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے وزیرنے مشترکہ شپنگ لائن اور سیاحوں کی پروازوں کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

عمان دونوں ممالک کے درمیان آف شورپائپ لائن تعمیر کرکے ایران سے گیس درآمد کرنے کا بھی خواہاں ہے اور وہ مشترکہ طور پر آف شورگیس فیلڈز کو ترقی دینے پر بھی تبادلہ خیال کررہا ہے۔

قبل ازیں ابراہیم رئیسی نے فروری میں قطر کا دورہ کیا تھاجہاں انھوں نے امیرتمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کی کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔گذشتہ سال اگست میں صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد کسی خلیجی ملک کایہ ان کا پہلا دورہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں