روس اور یوکرین

امریکا یوکرین میں فوری فوج بھیجنے کو تیار نہیں، حتمی فیصلہ بائیڈن کریں گے: جنرل ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ امریکا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کے لئے فوری طور پر تیار نہیں ہے اور اس ضمن میں حتمی فیصلہ صدر جو بائیڈن کریں گے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک ملی نے تصدیق کی کہ اس موضوع پر امریکی مقتدر حلقے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی ایسے منصوبے کی صورت میں ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے نچلی سطح پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

جنرل مارک کے مطابق "بہر صورت یوکرین میں امریکی فوج کی دوبارہ تعیناتی صدارتی فیصلے کے ذریعے سے ہی ہو گی۔ ابھی ہم اس فیصلے کے قریب نہیں ہیں اور اس ضمن میں منصوبہ بندی کی جاریہ ہے جسے وزیر دفاع کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔"

امریکی صدر جو بائیڈن نے 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے سے کچھ دن قبل ہی تمام امریکی فوجیوں کو یوکرین سے نکال لیا تھا تاکہ روس کے ساتھ براہ راست تنازعے سے بچا جاسکے۔ اس کے بعد بائیڈن نے یورپ میں نیٹو کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لئے اتحادی ممالک میں اضافی نفری تعینات کر رکھی ہے۔

امریکی حکام نے جریدے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ امریکی حکومت کیف میں کھولے جانے والے امریکی سفارتخانے کی حفاظت کے لئے اسپیشل فورسز کے دستوں کو بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں