ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے: سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ (اب تک) بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے اور مملکت نے تہران کی جانب ہاتھ بڑھایا ہوا ہے۔

وہ منگل کے روز ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک پینل میں خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ لبنان میں منعقدہ حالیہ پارلیمانی انتخابات ’’ایک مثبت قدم‘‘ ہوسکتے ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ہم ایران میں اپنے ہمسایوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں کہ وہ اس بات پرزوردیں کہ ہمارے خطے میں ایک انتہائی اہم سمندری تبدیلی کیا ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں تعاون کا ایک نیا دور سب کے لیے فوائد مہیا کرسکتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2016ء سے تعلقات منقطع ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال براہ راست بات چیت کا آغاز کیا تھا اوران کے درمیان بغداد کی میزبانی میں مذاکرات کے پانچ دورہوچکے ہیں۔

جبکہ اس دوران میں عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کوبچانے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ خلیجی عرب ریاستیں علاقائی سلامتی کے خدشات کو دور نہ کرنے کی وجہ سے اس معاہدے کو ناقص قراردیتی رہی ہیں۔تاہم ویانا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات مارچ سے تعطل کا شکار ہیں اور ان میں کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ’’اگر ممکنہ طور پرکوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہوگی، البتہ اگریہ ایک اچھا معاہدہ ہوتاہے تو‘‘۔انھوں نے الریاض کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تہران کی علاقائی سرگرمیوں پر توجہ دی جانا چاہیے۔

یہ پوچھے جانے پرکہ کیا الریاض لبنان میں منعقدہ حالیہ پارلیمانی انتخابات سے خوش ہے جن میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اوراس کے اتحادیوں نے اپنی پارلیمانی اکثریت کھودی ہے،شہزادہ فیصل نے کہا:’’یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے لیکن ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اس کا انحصاراس بات پر ہوگا کہ کیا لبنان میں ایسی حقیقی سیاسی اصلاحات ہوں گی جوریاست کے اختیار کو دوبارہ نافذ کرتی ہیں اور بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ حقیقی معاشی اصلاحات میں معاون ہوتی ہیں۔

ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ سعودی عرب نے تیل کی پیداوار بڑھانے سے متعلق امریکا کے مطالبات کوکیوں مسترد کیا ہے؟شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’’سعودی عرب کو تیل کی عالمی مارکیٹ میں فی الوقت فوری قلّت اور خاص تیل کی مصنوعات کی کم یابی کی توقع نہیں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں