خطرناک ایرانی تنظیمیں ہماری قومی سلامتی کو نشانہ بنا رہی ہیں: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی مسلح افواج نے خطے میں ایران نواز ملیشیاؤں کی سرگرمیوں اور ان کی منشیات اسمنگلنگ کی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی تنظیمیں اردن کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اردن کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کرنل مصطفیٰ الحیاری نے کہا ہے کہ ایرانی تنظیمیں ہماری قومی سلامتی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسےوقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل شام اور اردن کی سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ میں متعدد منشیات اسملگر ہلاک ہوگئے تھے۔ کرنل الحیاری نے کہا کہ اردن کی مسلح افواج اس وقت مملکت ہاشمیہ کی شمال مشرقی سرحدوں پر "منشیات کے خلاف جنگ" لڑ رہی ہیں۔

انہوں نے اردن کے"المملکۃ " چینل سےبات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارے ہاں حالیہ برسوں بالخصوص 2020-2021-2022 میں کارروائیوں اور بنیادی طور پر منشیات کی دراندازی اور اسمگلنگ کی کوششوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔"

الحیاری نے کہا کہ اسمگلنگ منظم طریقے سے ہوتی ہے، جس کی قیادت بیرونی قوتوں کی حمایت یافتہ منظم تنظیمیں کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روس نے جنوبی شام میں جو خلا چھوڑا ہے اسے ایران اپنی ملیشیاؤں کے ذریعے پُر کر رہا ہے۔

اس نے کہا کہ ان گروہوں کو بعض اوقات شامی سرحدی محافظوں اور دوسرے گروہوں سے غیر منظم حمایت حاصل ہوتی ہے۔اس لیے یہ منظم کارروائیاں کرتے ہیں۔

4 منشیات اسمگلر ہلاک

قابل ذکر ہے کہ اردن کی مسلح افواج نے اتوار کے روز شام کی جانب سے بڑی مقدار میں منشیات کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 4 منشیات کے اسمگلروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فوج نے انکشاف کیا کہ سرحد پر ہونے والی اس جھڑپ میں 637,000 کیپٹاگون گولیاں، 181 چرس کی گولیاں، 39,600 ٹراماڈول گولیاں اور ایک کلاشنکوف ہتھیار ملا ہے۔ اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کے اسمگلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں