عراق میں کردجنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں تین ترک فوجی ہلاک: وزارتِ دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شمال میں علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے حصے کے طور پرخدمات انجام دینے والے تین ترک فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترک وزارت دفاع نے منگل کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ کردباغیوں سے لڑائی میں چار فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ جھڑپ کہاں ہوئی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے کہا ہے کہ ترک فوجیوں کی کالعدم کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ترکی اوراس کے مغربی اتحادیوں نے اس جماعت کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھاہے۔

پی کے کے کےعراق کے خودمختارعلاقے کردستان کے پہاڑی علاقے قندیل میں میں تربیتی کیمپ اور اڈے ہیں۔اس نے 1984ء سے ترک ریاست کے خلاف مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔اس تنازع میں اب تک 40,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔مہلوکین میں زیادہ ترعام شہری ہیں۔

ترک فوج نے عراق اورشام میں کردجنگجوؤں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔اپریل میں اس نے شمالی عراق میں تازہ کارروائیاں شروع کی تھی۔اس میں ترک فضائیہ کے علاوہ زمینی دستے حصہ لےرہے ہیں۔

ترک صدررجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز کہا کہ جلد شمالی شام میں ایک نیا فوجی آپریشن شروع کیاجائےگا۔اس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اسے سرحدپر30 کلومیٹر (19 میل) کے علاقے میں ’’سکیورٹی زون‘‘بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

ترکی نے اپنی سرحد کے قریب واقع شمالی شام میں ایک اورکردگروپ پیپلزپروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے خلاف بھی تین کارروائیاں کی ہیں۔ترکی شام سے تعلق رکھنے والے اس کردگروپ کوپی کےکے ہی کا حصہ سمجھتا ہے۔

ترکی ان سکیورٹی زونز کو کردعسکریت پسندوں کو محفوظ فاصلے پررکھنے اوراس وقت اپنی سرحدوں کے اندر مقیم 37 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے بعض کو منتقل کرنےکے لیےاستعمال کرناچاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں