سعودی ویژن 2030

تیل کی آمدن میں اضافہ سعودی عرب کوپائیداری اہداف کے حصول میں مدد دے گا: وزیرمعیشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرمعیشت اورمنصوبہ بندی فیصل آل ابراہیم نے کہا ہے کہ تیل کی آمدن اور تیل مارکیٹ کی سرگرمیوں میں اضافے سے مملکت کو اپنے پائیداری اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بدھ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں کہا کہ تیل کے استعمال اور پیداوار میں اضافے سے قطع نظرسعودی عرب کا سبزاقدام، مشرقِ اوسط سبزاقدام اور قابل تجدید توانائی سے 50 فی صد توانائی پیدا کرنے کے اہداف وژن 2030 کی منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

رواں سال سعودی معیشت میں 7.4 فی صد نموکا امکان ہے۔ وزیرموصوف نے واضح کیاکہ گذشتہ سال ہماری غیرتیل سرگرمیوں میں 6.1 فی صد کی شرح سے اضافہ ہوا اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ رجحان جاری رہے۔

انھوں نے سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کی جانب سے صاف توانائی میں منتقلی کی حمایت کے لیے فوسل ایندھن میں مسلسل سرمایہ کاری کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ آخری چیزجو ہم چاہتے ہیں، وہ توانائی کی سلامتی اوراس کی ترقی پرتوجہ مرکوزکیے بغیر ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوزکرنا ہے۔

تیل کی قیمتیں حالیہ برسوں میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے سازگار نہیں رہی ہیں، خاص طور پرکرونا وائرس کی وَبا کے آغاز کے بعد سے۔سعودی وزیرخزانہ محمد الجدعان کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا کو کووِڈ-19 کا سامنا کرنا پڑا،وہیں سعودی عرب کو دُہرے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اس وبا اورتیل کی قیمتوں میں کمی دونوں کا مقابلہ کرناپڑا ہے۔

انھوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اسی پینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑے لیکن ہم نے سرکاری اور نجی شعبے کے ساتھ بات چیت کی اور اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں عوام کی جانب سے بہت زیادہ اعتماد ملا اورہمیں فیصلوں میں صحیح مدد فراہم ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ہماری پالیسیاں واضح ہیں۔ماہرین کے اتفاق رائے کے مطابق تیل سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

سعودی وزیرمعیشت و منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ہم تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ جاری رکھیں گے اوراس صلاحیت میں اضافے کی وکالت کرتے رہیں گے۔انھوں نےاس بات پربھی زوردیا کہ تیل میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مملکت کی مضبوط وکالت سے’’متضاد‘‘نہیں ہوگی۔

آل ابراہیم نے نے استفہامیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ضرورت کے وقت گندے ترین قسم کے کوئلے کو جلانے کے دور میں واپس جائیں۔

حال ہی میں سعودی آرامکوکے سربراہ امین الناصرنے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزکو بتایا کہ دنیا کو تیل کی ترسیل میں بڑی کمی کا سامنا ہے کیونکہ زیادہ ترکمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے خوفزدہ ہیں اور انھیں سبز توانائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیداواری صلاحیت کو وعدے سے زیادہ تیزی سے نہیں بڑھا سکتی۔

رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اس وقت دنیا میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بیرل یومیہ تیل پیداکررہا ہے یعنی ہر دسواں بیرل نکال ہے اور ممکنہ طور پراس سال کے آخر میں جب اوپیک اور روس جیسے اتحادیوں کے درمیان وسیع تر معاہدہ ختم ہو جائے گا تو پیداوار ایک کروڑ دس لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں