بھارتی عدالت کا نمایاں کشمیری حرّیت پسند رہ نمایاسین ملک کوعمرقید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

بھارت کی ایک عدالت نے بدھ کے روزمعروف کشمیری حرّیت پسند رہنما یاسین ملک کو’’دہشت گردانہ‘‘ سرگرمیوں کی مالی معاونت اور دیگرالزامات پرعمرقید کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔عدالت کے فیصلے کے خلاف مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے اس سے قبل قومی تحقیقاتی ایجنسی کے لیے نامزدخصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ وہ 1990 کی دہائی میں ہتھیار پھینکنے کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں مہاتما گاندھی کے اصولوں اورغیرمتشدد سیاست پرعمل پیرا تھے۔

یاسین ملک اورکل جماعتی حرّیت کانفرنس میں شامل دوسری جماعتیں بھارت کے زیرانتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی اور اس کے پاکستان سے الحاق کے لیے پُرامن جدوجہد کررہی ہیں جبکہ وہاں گذشتہ کئی دہائیوں سے قابض بھارتی افواج کے خلاف مسلح عسکریت پسند تنظیمیں بھی سرگرم عمل ہیں۔

نئی دہلی میں خصوصی جج پروین سنگھ نے یاسین ملک کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ان پر گذشتہ ہفتے فردِجرم عاید کی گئی تھی۔یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے اس سزا کوناجائزقراردیا ہے۔

انھوں نے ٹویٹرپرلکھا کہ ’’بھارتی کینگروعدالت کی جانب سے منٹوں میں فیصلہ کیا گیا ہے۔یاسین ملک بہادرآدمی ہیں، وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ہٹلرمودی کو چیلنج کریں گے‘‘۔

جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت اور مرکزی شہر سری نگرمیں لوگوں کی بڑی تعداد عدالت کے فیصلے کے بعد یاسین ملک کی رہائش گاہ کے باہراحتجاج کے لیے جمع ہوگئی۔انھوں نے مظاہرے سے روکنے پرپولیس کی جانب پتھراؤ کیا۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور گولیاں چلائی ہیں۔

سوانحی خاکا

یاسین ملک تین اپریل 1966 کو سری نگر میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارتی کی سکیورٹی فورسز کشمیری میں عام شہریوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہے تھی۔ یاسین ملک نے اسی تشدد ذدہ ماحول میں پرورش پائی اور اوائل عمری میں ہی اپنی باغیانہ طبیعت کے سبب مشہور ہوئے۔

سری نگر میں ٹیکسی ڈرائیوروں پر بھارتی فوج کے تشدد کے ایک واقعے کے بعد یاسین ملک نے ’تالا پارٹی‘ کے نام سے ایک گروپ ترتیب دیا۔ اس گروپ نے 1983 میں سری نگر کے شیر کشمیر سٹیڈیم میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری میچ کے وقفے میں پچ اکھیڑ دی اور میچ ملتوی کروا دیا۔

یاسین ملک اس وقت کشمیر میں برسر اقتدار جماعت نیشنل کانفرنس کے خلاف ایک نمایاں طالب علم رہنما کے طور پر ابھرے اوراس جماعت کی کئی سیاسی سرگرمیوں کو تلپٹ کرتے رہے۔

باغی نوجوان

بھارت نے 11 فروری 1984 کو معروف کشمیری رہنما مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی تو کشمیر میں پرتشدد احتجاجی تحریک شروع ہوئی جو کئی سال تک جاری رہی۔ اس تحریک کے دوران یٰسین ملک کو پہلی مرتبہ گرفتار کر لیا گیا اور یہیں سے ان کی باقاعدہ اٹھان شروع ہوئی۔

جیل سے واپسی پر یاسین ملک نے 1986 میں اپنی ’تالہ پارٹی‘ کا نام بدل کر ’اسلامک سٹوڈنٹ لیگ‘ رکھا اور باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ اگرچہ اس گروپ نے خود انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم یٰسین ملک مسلم یونائٹیڈ فرنٹ کی انتخابی مہم کا حصہ بنے اور اس گروپ کے سربراہ سید یوسف شاہ (سید صلاح الدین) کے پولنگ ایجنٹ رہے۔ تاہم ان انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے سید یوسف شاہ اور ان کی جماعت کو ہرا دیا گیا۔

انتخابی نتائج کی جبری تبدیلی کے بعد شروع ہونے والی تحریک مسلح شورش کی بنیاد بنی۔ 1988 میں سید یوسف شاہ اور یاسین ملک نے لائن آف کنٹرول عبور کی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آ گئے۔ دونوں نے عسکری تربیت حاصل کی اور بھارت سکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔ سید یوسف شاہ نام بدل کر سید صلاح الدین بن گئے اور حزب المجاہدین کی بنیاد رکھی جبکہ یٰسین ملک نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بھارتی فورسز کے خلاف گوریلا کارروائیوں کا آغاز کیا۔

1989 میں یاسین ملک نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ربیعہ سعید کو اغوا کروایا تاکہ جیل سے اپنے ساتھیوں کو رہا کروا سکیں۔ اس واقعے میں جن لوگوں کو رہا کروایا گیا ان میں یٰسین ملک کے قریب ساتھی اشفاق مجید وانی، مقبول بٹ کے بھائی غلام نبی بٹ، نور محمد کلوال، محمد الطاف اور مشتاق احمد زرگر شامل تھے۔

مارچ 1990 میں ایک گوریلا کارروائی کے دوران جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ان چیف اشفاق مجید وانی مارے گئے اور یٰسین ملک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 1994 تک جیل میں رہے اس دوران لبریشن فرنٹ کی زیادہ تر قیادت کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے مار دیا یا گرفتار کر لیا۔


پاکستانی خاتون سے شادی

2003 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں سیز فائر معائدے کے نتیجے میں سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع ہوئی تویاسین ملک بھی کشمیری قائدین کے ساتھ اپریل 2005 میں پاکستان آئے اور کئی سیاسی قائدین سے ملاقاتیں کیں۔

2005 سے 2009 کے درمیان ان کا پاکستان میں کافی آنا جانا رہا اور اس دوران یاسین ملک کے ایک پاکستانی آرٹسٹ مشعال ملک کے ساتھ تعلقات استوار ہوئے۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کئی دوستوں اور خیر خواہوں کے منع کرنے کے باوجود یاسین ملک نے 2009 میں مشعال ملک سے شادی کر لی اور 2012 میں ان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی۔

یاسین ملک سے قربت رکھنے والے اسلام آباد میں مقیم سابق کشمیری صحافی کے بقول: وہ مشعال ملک سے شادی کے لیے جس قدر پرجوش تھے، شادی کے بعد اتنے ہی مایوس ہوئے۔

’وہ نجی محفلوں میں شادی کے فیصلے کو اپنی بڑی غلطی قرار دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ رشتہ ان کی تحریک کمزور کرنے کا سبب بنے گا اور وہ ممکنہ طور پر وہ ٹریپ ہوئے۔‘

ان کی اہلیہ مشعال ملک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کافی قریب سمجھی جاتی ہیں اور اپنی غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے کشمیر پر پاکستان کے ریاستی موقف کا پرچار کرتی ہیں جو کسی بھی طور پر یاسین ملک کی تحریک یا کشمیر پر ان کے افکار اور نظریات سے ہم آہنگ نہیں۔

امریکہ میں مقیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اور یاسین ملک کے قریبی ساتھی راجہ مظفر کے مطابق شادی کے بعد مشعال ملک نے لبریشن فرنٹ کی سرگرمیوں میں مداخلت کی تو اس پر تحریک میں شامل قیادت کی اکثریت نے تحفظات ظاہر کیے جس پر یٰسین ملک نے اپنی اہلیہ کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا نام استعمال کرنے سے منع کیا۔

یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے 2019 میں معاصر ویب گاہ انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو کے مطابق 13سالہ ازدواجی زندگی میں انہوں نے صرف دو ماہ کا عرصہ اپنے خاوند کے ساتھ گزارا۔

’ان کے ساتھ آخری ملاقات ستمبر 2014 ہوئی جب میں سری نگر گئی تھی۔ اس کے بعد سے ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ ٹیلی فون پر اور واٹس ایپ پر ان سے بات ہوتی رہتی تھی۔ گرفتاری کے وقت بھی انہوں نے فون کیا اور کہا کہ وہ مجھے لینے آ گئے ہیں۔ بیٹی سے بات کی اور کہا کہ میں بہت دور جا رہا ہوں۔ اپنا بہت خیال رکھنا اور بہت سارا پیار۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں