ایرانی ملیشیا

پاسداران انقلاب کو دہشت گرد فہرست میں شامل رکھنے کا امریکی فیصلہ، اسرائیل کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے پر امریکی انتظامیہ کے عزم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

بینیٹ کے بہ قول ’’صدر بائیڈن اسرائیل کے سچے دوست ہیں اور تل ابیب کے کی سلامتی اور طاقت کا خیال رکھنے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی اصل جگہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست ہی ہے۔

مسٹر نفتالی نے بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے فیصلے کو ’’درست، اخلاقی اور مبنی پر انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی صدر نے انہیں اپنی حالیہ ٹیلی فونک کال میں اس فیصلے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب
ایرانی پاسداران انقلاب

امریکی ویب گاہ ’’پولیٹیکو‘‘ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں برقرار رکھیں گے۔

ویب گاہ کے مطابق امریکی صدر نے ایران کو رعائیتں دینے کا سلسلہ بند کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیٹیکو نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر بائیڈن نے اپنے اس فیصلے سے اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی مطلع کر دیا ہے۔

ایک باخبر امریکی عہدیدار نے گذشتہ مہینے بتایا تھا کہ جب تک ایران جوہری معاہدے کے بعد سلامتی سے متعلق خدشات دور نہیں کرتا اس وقت تک واشنگٹن پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نہیں نکالے گا۔

پولیٹیکو کے مطابق امریکی عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکیوں کے خلاف مسلسل دھمکیوں کے تناظر میں واشنگٹن کا ایرانی ملیشیا سے متعلق نقطہ نظر قطعاً تبدیل نہیں ہوا۔

ایرانی اخبارات کے مطابق تہران کے وسط میں پاسداران انقلاب کے ایک اہم عہدیدار کے قتل کے بعد امریکہ سے آنے والی ایسی خبریں سلامتی سے متعلق معاملات کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے، جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ اخبارات کے مطابق ایسی خبروں کا مقصد ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کو ناکام بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں