یمن اور حوثی

حوثیوں کے پاس یرغمال امریکی ترقیاتی ادارے کا ملازم جیل میں چل بسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اغوا ہونے والے امریکی ترقیاتی ادارے کے ایک ملازم کی جیل میں ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

"یمن فیوچر" میڈیا پلیٹ فارم کے مطابق صنعاء میں امریکی ترقیاتی ادارے کا ملازم عبدالحمید العجمی گذشتہ روز پراسرار حالات مردہ پایا گیا۔ اسے حوثی ملیشیا نے سات ماہ قبل حراست میں لینے کے بعد جیل میں ڈال دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوت ہونے والا ملازم کو گردے کا عارضہ لاحق تھا۔ جیل میں اسے کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی ہے۔

صنعاء میں میڈیا پلیٹ فارم کے ذرائع کے مطابق العجمی خاندان لاش وصول کرنے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ان کا کوئی مطالبہ بھی نہیں۔

گذشتہ نومبر میں حوثی ملیشیا نے العجمی اور صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے عملے کے دو ملازمین، سفارت خانے کے سابق سیاسی مشیر عبدالقادر السقاف اور پروکیورمنٹ ملازم محمد شما کو اغوا کر لیا تھا۔

اس سے قبل حوثی ملیشیا نے امریکی ایجنسی کےملازمین جمیل اسماعیل، بسام مردحی،شائف الھمدانی اور امریکی سفارت خانے کے تفتیشی ملازم محمد خراشی کو اغوا کرلیا تھا۔

اکتوبر کے وسط سے حوثی ملیشیا نے صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے متعدد ملازمین کے خلاف گرفتاریوں کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان میں سے بعض کو’شیراتون‘ اجلاس میں طلب کرکے گرفتار کیا گیا جب کہ بعض کو ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے بعض کو طویل تفتیش کے بعد رہا کر دیا تھا۔

دارلحکومت صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے ملازمین کی گرفتاریوں کی مہم کے ساتھ ساتھ حوثیوں نے سفارت خانے کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا اور گارڈز کی جگہ گروپ کے مسلح ارکان کو تعینات کیا گیا۔

امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈر کنگ کی کوششوں سے امریکی سفارت خانے کے 30 یمنی ملازمین کو رہا کیا گیا۔ سفارت خانہ سنہ 2015 سے بند ہے جب کہ تقریباً پانچ سے نو ملازمین اب بھی حوثیوں کی حراست میں ہیں۔ ان میں سے دو امریکی ترقیاتی ادارے کے ملازم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں