ترکی:استنبول سے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا نیا رہ نما گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے سب سے بڑے شہراستنبول میں سکیورٹی فورسز نے سخت گیرجنگجو گروپ داعش کے نئے رہ نما کو گرفتار کرلیا ہے۔

ترکی کے اعلیٰ حکام نے جمعرات کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی پولیس اورانٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ فروری میں شام میں امریکی کارروائی میں داعش کے سابق سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے وہ انتہا پسند گروہ کی قیادت کررہا تھا۔انھوں نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظراس کی شناخت ظاہرنہیں کی ہے۔

لیکن ترک نیوزویب سائٹ اودا ٹی وی نے گرفتار شخص کی شناخت ابوالحسن القریشی کے نام سے کی ہے مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئی ہیں۔ ماضی میں بعض رپورٹس میں داعش کے نئے رہنما کا کچھ ایسا ہی نام بتایا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ صدررجب طیب ایردوآن کو داعش کے لیڈر کی گرفتاری سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔اودا ٹی وی کے مطابق توقع ہے کہ صدر بہ ذات خود آنے والے دنوں میں اس کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

حکام نے بتایا کہ دہشت گرد گروہ کے رہ نما کوپولیس نے ایک گھر کی طویل نگرانی کے بعد پکڑا ہے۔وہ اس گھر میں روپوش تھا۔ اودا ٹی وی نے بتایا کہ چھاپے کے دوران میں پولیس نے فائرنگ نہیں کی۔

ترک فورسزنے حالیہ برسوں کے دوران میں داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف اندرون ملک اور پڑوسی ملک شام میں متعدد کارروائیاں کی ہیں اور ترکی کی سرحد کے قریب متعدد قصبوں سے انتہاپسند جنگجوؤں کو بے دخل کردیا ہے۔

داعش کے لیڈر کی حراست کی خبرایسے وقت میں سامنے آئی ہےجب انقرہ امریکا کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا وائی پی جی کی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی علاقے میں ایک نئے آپریشن کے منصوبوں کا اشارہ دے رہا ہے۔ترکی انھیں اپنے جنوب مشرقی علاقے میں خود مختاری کے لیے مسلح تحریک چلانے والے علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں اوران کی جماعت کردستان ورکرزپارٹی سے روابط کی بناپر دہشت گرد قراردیتا ہے۔

وائی پی جی نے شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردارادا کیا تھا اور اس کو سخت گیرجنگجو گروپ کے خلاف سب سے مؤثر قوتوں میں سے ایک قراردیا جاتا تھا۔ اسی بنا پرامریکا سمیت مغربی ممالک اس کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔امریکا نے اس گروپ کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ اور رقوم مہیا کی تھیں لیکن اس نے ترک فورسزکی شمال مغربی شام میں کردملیشیا کے خلاف کارروائی کے دوران میں اس کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں