ایران

ایرانی تیل بردار ٹینکر پر امریکی قبضہ، تہران حکومت کا سوئس نمائندے سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی جانب سے یونان کے قریب ایران تیل بردار آئل ٹینکر پر قبضے پر احتجاج کے لئے تہران میں موجود سوئس نمائندے کو دفتر خارجہ میں طلب کر لیا۔ایران اور امریکا کے درمیان موجود سفارتی بحران کے سبب تہران میں موجود سوئٹزرلینڈ کے نمائندے امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تہران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ISNA کے مطابق "حکومت ایران نے امریکا کی جانب سے بین الاقوامی اور سمندری قوانین کی مسلسل خلاف ورزی پر سوئس نمائندے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔"

وزارت خارجہ نے روسی ٹینکر اور اس میں موجود ایرانی تیل کو فوری طور پر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی حکومت نے بدھ کے روز ایک اعلان کے تحت ایرانی پاسداران انقلاب کے لئے منی لانڈرنگ اور تیل کی اسمگلنگ کا کام کرنے والی روسی کمپنی پر پابندیوں کا اطلاق کیا تھا۔

امریکی وزارت انصاف کے ترجمان نے تیل بردار ٹینکر پر قبضے کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

یونان کی وزارت شپنگ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ امریکی وزارت انصاف نے یونانی حکومت کو ٹینکر میں ایرانی تیل کی موجودگی کی پہلے سے اطلاع دی تھی۔

ابھی یہ معلومات موصول نہیں ہو سکی ہیں کہ اس جہاز پر قبضہ ایرانی تیل کی موجودگی کی بناء پر کیا گیا یا جہاز کی روسی کمپنی سے تعلق کی بنیاد پر۔ امریکا نے ایران اور روس پر علاحدہ علاحدہ پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔

اس معاملے کا فہم رکھنے والے تین مختلف ذرائع نے خبر ایجنسی کو بتایا ہے کہ امریکا اس جہاز کا سامان کسی دوسرے ٹینکر میں منتقل کر کے امریکی سرزمین بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز ایرانی وزارت خارجہ نے یونان کے ناظم الامور کو طلب کر کے ان سے اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں