ایرانی کرنل کے قتل کی اعترافی لیک امریکا۔ اسرائیل تعلقات متاثر کرسکتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے کرنل کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہونے واقعے اور اس راز کے افشا ہونے کے نتیجے میں تل ابیب میں پھیلنے والی بے اطمینانی کی فضا کے بعد کنیسیٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے چیئرمین رام بن بارک نے زور دیا ہے کہ اس لیک سے امریکا کے ساتھ اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی اخبارنیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکی حکام کو ایرانی کرنل صیاد خدائی کے قتل کے بارے میں آگاہ کردیا ہے اور بہ انداز دیگراعتراف کیا ہے کہ ایرانی کرنل کے قتل کے پیچھے اسی کا ہاتھ کارفرما تھا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق کرنل خدائی کو گذشتہ اتوار کے روز دو موٹرسائیکل سواروں نے تہران میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ حملہ آوروں نے ان پر ان کے گھر کے قریب پانچ گولیاں چلائی تھیں۔

نیویارک ٹائمز سے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک انٹیلی جنس عہدہ دار کے مطابق اسرائیلی حکام نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد تہران کو خبردارکرنا تھاکہ وہ سپاہ پاسدارن انقلاب کے تحت القدس فورس کے اندر ایک خفیہ گروپ یونٹ 840 کی سرگرمیاں معطل کردے۔

ایک ریڈیو بیان میں انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام سے کیا منسوب کیا، جنہوں نے تہران میں کرنل سید خدائی کے قتل میں تل ابیب کے ملوث ہونے کے بارے میں بات کی اور ایسے بیانات پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ امریکی رپورٹ میں اسرائیلی حکام کی جانب سے واشنگٹن کو مطلع کرنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد تہران کو ایران سے باہر ٹارگٹ آپریشنز کے بارے میں خبردار کرنا تھا۔

اسرائیل ناراض

یہ اطلاع جمعرات کو اس وقت سامنے آئی جب العربیہ/الحدث کو معلوم ہوا تھا کہ اسرائیلی سیکیورٹی حلقے اس لیک پر ناراض ہیں، کیونکہ اس کے نتائج منفی ہوسکتے ہیں اور امریکا کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکام نے امریکی اخبار کو انکشاف کیا تھا کہ اس قتل کا مقصد ایران کو یونٹ 840 کی سرگرمیوں سے خبردار کرنا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سردار باقری کی سربراہی میں اس یونٹ کو کئی برسوں تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس کا حوالہ پہلی بار اسرائیلیوں کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹس میں دیا گیا تھا۔

اس یونٹ تشکیل کا بنیادی مقصد ایران سے باہر قتل، اغوا یا بم دھماکے کرنا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی کرنل سید خدائی کو گذشتہ اتوار کی سہ پہر مشرقی تہران میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ خدائی پر حملہ کرنے والے بہ حفاظت فرار ہوگئے تھے مگر وہ انہیں پانچ گولیاں مارگئے جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں۔

یہ حملہ نومبر 2020 کے بعد سب سے نمایاں واقعہ ہے، جب جوہری سائنسدان محسن فخر زادہ کو دارالحکومت کے قریب ان کے قافلے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں تہران نے اسرائیل پر الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں