ترکی ہماری خود مختاری کو پامال کر رہا ہے: یونان کی اقوام متحدہ کو شکایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یونان نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو باضابطہ شکایت کی ہے کہ ترکی مشرقی ایجین سمندر میں موجود جزیروں پر اس کی خود مختاری کو پامال کر رہا ہے اور انقرہ حکومت نے جارح پالیسی اپنا رکھی ہے جس سے خطے کے استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔

یو این سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس کو چار صفحات پر مشتمل خط میں اقوام متحدہ میں یونان کی مستقل مندوب ماریا تھیوفیلی نے لکھا کہ "یونان ترکی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایجین جزیروں پر یونانی خودمختاری پر سوالات نہ اٹھائیں اور تاریخی و قانونی طور پر غلط الزامات کی بنیاد پر جنگ کی دھمکیاں دینے سے باز رہیں۔"

یونان اور ترکی کے درمیان سمندری حدود کی بنیاد پر کئی دہائیوں سے تنازعہ چلا آرہا ہے مگر 2020 میں مشرقی بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں تیزی کے ساتھ یہ معاملہ ایک بار پھر سے توجہ کا مرکز بن گیا۔

ترکی نے یونان سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ 20 ویں صدی کے معاہدوں کے مطابق یونان ان جزیروں سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ یونانی حکومت نے ترک حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان معاہدوں کی غلط تشریح کر رہے ہیں اور سرحدی علاقے میں جارحانہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ "ترکی کی جانب سے پر خطر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس میں جنگی جہازوں کی مدد سے یونانی حدود کی خلاف ورزی شامل ہے۔

ترکی کی جانب سے دو سال قبل تیل کے ذخائر کی تلاش میں سروے ٹیم بھیجے جانے کے باعث دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تنائو سے بھرپور وقت گزرا جس کے دوران یورپی ممالک نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تنازعہ پھوٹ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں