کیااسرائیل ایرانی کرنل کےقتل میں ملوّث ہے؟امریکا کوحقیقت سے آگاہ کردیا:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی اخبارنیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکی حکام کو ایرانی کرنل سیّد خدائی کے قتل کے بارے میں آگاہ کردیا ہے اور بہ انداز دیگراعتراف کیا ہے کہ ایرانی کرنل کے قتل کے پیچھے اسی کا ہاتھ کارفرما تھا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق کرنل خدائی کو گذشتہ اتوار کے روز دو موٹرسائیکل سواروں نے تہران میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ حملہ آوروں نے ان پر ان کے گھر کے قریب پانچ گولیاں چلائی تھیں۔

نیویارک ٹائمز سے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک انٹیلی جنس عہدہ دار کے مطابق اسرائیلی حکام نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد تہران کو خبردارکرنا تھاکہ وہ سپاہ پاسدارن انقلاب کے تحت القدس فورس کے اندر ایک خفیہ گروپ یونٹ 840 کی سرگرمیاں معطل کردے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونٹ 840 کو اسرائیلی حکومت، فوج اورانٹیلی جنس کے مطابق اسرائیلی شہریوں اورحکام سمیت دنیا بھرمیں غیرملکیوں کے اغوا اور قتل کا کام سونپاگیا ہے جبکہ ایران نے کبھی بھی یونٹ 840 کے وجود کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

ایران نے کرنل خدائی کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے اورپاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے کہا کہ تہران دھمکیوں کا سختی سے جواب دے گا۔

انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی خطرے یا کارروائی پرایران کا ردعمل سخت ہوگا لیکن ہم اس بات کا تعیّن کریں گے کہ یہ کب اور کیسے ہوگا اور کن حالات میں ہوگا۔ سلامی نے دھمکی دی کہ ہم یقینی طور پر اپنے دشمنوں سے بدلہ لیں گے۔

ان کے علاوہ اسی روز ایران کی قومی سلامتی کونسل کے رکن ماجد میراحمدی نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجرم اپنے اعمال پرافسوس کریں گے۔

سرکاری خبررساں ادارے ایرنا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’کرنل خدائی کاقتل بلاشبہ صہیونی نظام نے کرایا تھا اور مجرموں کوایران سے بھاری تھپڑ کھانے کے لیےخود کو تیاررکھنا ہوگا‘‘۔

دریں اثناء ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کرنل خدائی کے’’بزدلانہ‘‘قتل کی مذمت کرے۔مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیرماجد تخت روانچی نے اقوام متحدہ پر زوردیا ہے کہ وہ اس قتل کی مذمت کرے اور ایسا’’دہشت گردی کے خلاف اورغیرامتیازی انداز میں اس کی ذمہ داری کے تعیّن کی بنیاد پرکرے‘‘۔

روانچی نے خدائی کو ’’شہید‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ’’بزدلانہ انداز‘‘ میں قتل کیا گیا تھا وہ ملک کی مسلح افواج کے رکن تھے اور انھوں نے خطے میں دہشت گردی اور داعش سے نمٹنے میں نمایاں کردارادا کیا تھا۔

ادھراسرائیلی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام مذکورہ معلومات کے افشا پرحیران ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام اس افشا پر’’مشتعل‘‘ ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ ایم کے رام بِن بارک نے نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی لیکس ’’بنیادی طورپراعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں‘‘۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اس راز کے افشا کی تحقیقات کرے گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ایسا کیونکرہوا ہے۔

بِن بارک نے کہا کہ ’’جہاں تک میں جانتا ہوں، ہم نے کسی کو مطلع نہیں کیا اور نہ ہی قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے اور یہی بہترین راستہ ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں