’پی ایل او‘ کا امریکا سے تنظیم کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ امریکی انتظامیہ نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان 1993 میں اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد سے فلسطینی حکام کے لیے وائٹ ہاؤس کے دروازے کھول دیے تھے لیکن امریکی کانگریس 1987 میں منظور کیے گئے ایک قانون پر بدستور عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے جس میں ’پی ایل او‘ کو ای دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

کانگریس نے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کی حمایت سےتنظیم آزادی فلسطین کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور اس پر پابندیاں لگانے کے لیے کئی قوانین بنائے۔ پی ایل کو انسداد دہشت گردی کی وضاحت ایکٹ، دہشت گردی کے تحفظ اور انصاف کے متاثرین کے ایکٹ، ترمیم شدہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ’اٹکا‘ اور ٹائلر فورس قانون کے تحت بلیک لسٹ کیا گیا۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور سے لے کر اب تک امریکی انتظامیہ 1991 میں میڈرڈ امن کانفرنس کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن عمل کی واحد سرپرست رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود واشنگٹن ان قوانین کو ختم کرنے کے لیے کام نہیں کرسکا جن کےتحت’PLO‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ تنظیم آزادی فلسطین نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور بین الاقوامی معاہدوں میں شمولیت اختیار کرنے کی بھی کوشش کررہی ہے۔

پہلا مطالبہ نہیں

گذشتہ برسوں کے دوران امریکی کانگریس نے ان قوانین کو مضبوط بنانے اور تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے تاکہ ’پی ایل او‘ کے لیے واشنگٹن کی مدد کو امریکی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے دو روز قبل امریکی انتظامیہ کی طرف سے تنظیم کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی درخواست اپنی نوعیت کا پہلا مطالبہ نہیں کیونکہ اس سے قبل بھی ایسی ہی درخواستیں تھیں جنہیں یکے بعد دیگرے امریکی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا سامنے آچکی ہیں۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن حسین الشیخ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے امریکی انتظامیہ کو ایک سرکاری مکتوب میں تنظیم کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کانگریس کی طرف سے ’پی ایل او‘ کو دہشت گردی کی فہرست میں برقرار رکھنے پر فلسطینی قیادت کی طرف سے حیرت کا اظہار کیا اور اسے امریکا کے ظالمانہ طرز عمل کی بدترین شکل قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں