ایک ہفتے میں دوسرا ایرانی پولیس آفیسر گاڑی پر فائرنگ میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے جنوبی مشرق صوبے سیستان بلوچستان کے پولیس سربراہ نے بتایا ہے کہ پولیس میں میجر رینک کے افسر کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ ہوا ہے جس میں عباس راہ انجان نامی پولیس افسر ہلاک ہو گیا۔

بریگیڈئر احمد طاھری نے بتایا کہ میجر عباس کے قتل کا طریقہ کار بھی چند روز قبل ہلاک کیے جانے والے کرنل کے قتل سے ملتا جلتا ہے۔

’’فارس‘‘ نامی ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق میجر عباس انجان کے قتل کی واردات جمعہ کے روز رات دس بجے ہوئی جب مقتول پولیس افیسر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایرانشھر سے واپس لوٹ رہے تھے۔

زخمیوں سے چور ہسپتال میں جل بسے

پولیس سربراہ کے مطابق نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے پولیس افیسر کو ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ طبی امداد ملنے سے پہلے جل بسے۔ حملہ آوروں سے متعلق بتایا ہے کہ وہ رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔

پولیس آفیسر کے قتل کے اسباب معلوم نہیں ہو سکے۔ چند دن قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے اعلی عہدیدار کو ملتی جلتی کارروائی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

کرنل صیاد خدائی
کرنل صیاد خدائی

گذشتہ اتوار کو دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے کرنل صیاد خدائی کی سفید رنگ کی کار پر گولیاں برسائیں اور اس کے بعد وہ جائے حادثہ سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد صیاد خدائی کی خون میں لت پت لاش تہران میں ان کے گھر کے قریب سے ملی۔

ایران میں نومبر 2020 کو ایک مشہور جوہری سائنسدان محسن فضری زادہ کے موٹر کیڈ پر بھی ایسے ہی فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کیا گیا۔ تہران نے اس کارروائی کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹہرایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں