تُونس:عدالت نے النہضہ کے سربراہ سمیت 34افرادکے سفر پرپابندی عایدکردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تُونس کی ایک عدالت نے اسلام پسند جماعت النہضہ کے سربراہ سمیت 34 افراد پر سفری پابندی عایدکردی ہے۔ان سب افراد پر2011 میں تُونس میں عوامی انقلاب کے بعد مبیّنہ طور پر متوازی سکیورٹی سروس کی تشکیل میں ملوّث ہونے کا شُبہ ہے۔

النہضہ پارٹی کے سربراہ راشدالغنوشی اور 33 دیگر افراد کو مس بیّنہ سروس کی تشکیل پرا تحقیقات میں نشانہ بنایا گیا ہے۔اسے ’’خفیہ مشینری‘‘کا نام دیا گیا ہے۔اسے کچھ لوگوں نے 2013 میں بائیں بازو کے دولیڈروں کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ابھی تک لاینحل قتل کا ذمہ داربھی قراردیا ہے۔

آریانا کی عدالت کی ترجمان فاطمہ بوغوطایانے جمعہ کی رات دعویٰ کیا کہ ملزمان نے غیرقانونی طور پر ریاستی اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کی تھی اور مبینہ طورپراسے ایک ایسے شخص کے ساتھ شیئر کیاتھا جو اس کا مجاز ہی نہیں تھا اور ان کا یہ فعل اختیارات کے ناجائزاستعمال کے مترادف ہے۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

عدالت کی ترجمان نے ریڈیوموسیک کو بتایا کہ سفری پابندیاں وزیرانصاف لیلیٰ جافیل کے حکم پر عاید کی گئی ہیں۔

راشدالغنوشی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’نام نہاد خفیہ مشینری پہلے سے تیارکردہ سازش ہے‘‘اوریہ’’حقائق کوغلط ثابت کرنے‘‘کی نمائندگی کرتی ہے۔انھوں نے شمالی افریقا میں واقع ملک میں سیاسی اور معاشی بحران اور سماجی امورجیسے حقیقی مسائل سے عوام کو بھٹکانے کے مقصد کے ساتھ حکام کی جانب سے’’سوچے سمجھے آپریشن‘‘کی مذمت کی۔

انھوں نے صدرقیس سعیّد کی جانب سے عدلیہ پرمسلسل دباؤ ڈالنے کی مذمت کی۔تُونسی صدر نے عدلیہ کو بدعنوانیوں کے خلاف کارروائیوں کا حکم دے رکھا ہے۔ راشد الغنوشی صدر کے کٹڑمخالفین میں شمارہوتے ہیں۔ وہ تُونس کی معطل پارلیمان کے سربراہ بھی تھے-اسے گذشتہ سال صدر قیس سعیّد نے معطل کردیا تھا-

انھوں نے گذشتہ سال 25 جولائی کو صدرقیس سعید کے غیرمعمولی اورمتنازع اقدامات کو ’’بغاوت کی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مقصد تُونس میں آمریت کی بحالی تھا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں تُونسی صدر نے تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرلیے تھے اور خود کو ایک حکم نامے کے ذریعے نظام حکومت چلانے کے لیے وسیع اختیارات سے نوازدیا تھا۔ انھوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے علاوہ وزیراعظم کو برطرف کر دیا تھا اور ان کے تمام اختیارات سنبھال لیے تھے-صدر نے دعویٰ کیا کہ ’’ملک کو قریبی خطرے سے بچانے‘‘ اور وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیرتھے۔

تاہم انھوں نے تُونس کے اتحادیوں کے دباؤ کے تحت،جو ملک میں جمہوری پسپائی کے بارے میں فکر مند ہیں،ایک لائحہ عمل وضع کیا ہے جس میں آئین میں ترمیم کے لیے سیاسی اصلاحات پر 25 جولائی کو ریفرنڈم ہوگا اور پھر 17 دسمبر کو پارلیمانی انتخابات منعقد کرانے کی تجویزپیش کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں